گاجس نے دُنیا میں اپنے مال میں سے اللّٰہعَزَّوَجَلَّکا حق ادا نہیں کیا ہو گا، اُس کا مال اُس کے دونوں کندھوں کے درمیان ہو گا، وہ شخص جب پُلْ صِراط پر لڑکھڑائے گا تو اُس کا مال اُس سے کہے گا : تُو برباد ہو! تُو نے مجھ سے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا حق کیوں ادا نہیں کیا؟ پس وہ اسی طرح ہلاکت وبربادی کو پکارتا رہے گا۔
(تاریخ دِمَشق لابن عَساکِر، ج۴۷ص۱۵۳)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ رِوایت میں عِبرت ہے اُن صاحِبانِ ثَروَت وحیثیت لوگوں کے لئے جو فرض ہونے کے باوُجُود زکوٰۃ دینے سے کتراتے، اپنی دولت کوگناہوں کے کاموں میں گَنواتے، بھلائی کے کاموں میں خَرچ کرنے سے جی چُراتے اور محتاجوں کی مددسے جان چُھڑاتے ہیں۔ غور فرمالیجئے کہ آج خو ش حال کردینے والا مال بروزِ قِیامت وبال کی صورت اِختِیار کرگیا تو ہمارا کیا بنے گا؟ کاش!ہمارے دلوں سے دُنیا ومالِ دُنیا کی بے جا مَحَبَّت نکل جائے اور ہماری قَبْر وآخِرت بہتر ہو جائے۔
(ماخوذ از ’’خزانے کے انبار‘‘ ،ص ۱۷)
مِرے دل سے دُنیا کی اُلفت مِٹا دے مجھے اپنا عاشِق بنا یاالٰہی!
تُو اپنی وِلایَت کی خیرات دے دے مِرے غوث کا واسِطہ یاالٰہی!
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مال بچھوکی طرح ہے
حضرتِ سیِّدُنا یَحْییٰ بن مُعاذرضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :دِرہَم ( یا روپے )