Brailvi Books

حرص
130 - 228
 عَجَمِی کا خطاب دے دیا گیا ۔(تذکرۃ الاولیاء، باب ششم ،ذکر حبیب عجمی ،ج۱، ص۵۶۔۵۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میدانِ محشر کے چار سوالات
	مال کس طرح کمانا اور کہاں خرچ کرنا ہے؟اس کا خیال رکھنا بھی بہت  ضَروری ہے ، سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ گُہربار ہے :’’قِیامت کے دن بندہ اُس وقت تک قدم نہ ہٹاسکے گا جب تک اُس سے یہ چارسُوالات نہ کرلئے جائیں:(۱)اپنی عمرکن کاموں میں گزاری (۲)اپنے عِلم پر کتنا عمل کیا(۳)مال کس طرح کمایا اور کہاں خرچ کیا اور (۴)اپنے جسم کو کن کاموں میں بوسیدہ کیا؟‘‘(جامع الترمذی، الحدیث:۲۴۲۵،ج۴ص۱۸۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مال کا استعمال اور اُخروی وبال
	 حضرتِ سیِّدُنا ابو الدَّرداء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکا بیان ہے کہ میں نے اَنبیاء کے تاجْدار، شَہَنْشاہِ اَبرار،دو عالَم کے مالِک ومختارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکو فرماتے سنا ہے کہ بروزِ قِیامت ایک ایسے مال دار شخص کو لایا جائے گا جس نے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی فرماں برداری میں زندَگی بَسَر کی ہو گی، پُلْ صراط پار کرتے ہوئے اُس کا مال اس کے سامنے ہوگا، جب وہ لڑکھڑانے لگے گا تو اُس کا مال کہے گا:’’چلتے جاؤ! کیونکہ تم نے مجھ سیمُتَعَلِّق  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کا حق ادا کردیا ہے۔‘‘پھر ایک اور مال دار کو لایا جائے