میں کچھ لڑکے کھیل رہے تھے آپ کو دیکھ کر کچھ لڑکوں نے آوازے کَسنا شروع کئے : ’’دُور ہٹ جاؤ حبیب سُود خور آرہا ہے ،کہیں اس کے قدموں کی خاک ہم پر نہ پڑجائے اور ہم اس جیسے بد بخت نہ بن جائیں ۔‘‘ یہ سن کر آپ بہت رنجیدہ ہوئے اور حضرت ِسیدنا حسن بصریعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویکی خدمت میں حاضر ہو گئے ۔انہوں نے آپ کو ایسی نصیحت فرمائی کہ بے چین ہو کر توبہ کی ۔ واپسی میں جب ایک مقروض شخص آپ کو دیکھ کر بھاگنے لگا تو فرمایا:’’تم مجھ سے مت بھاگو ،اب تو مجھ کو تم سے بھاگنا چاہیے تاکہ ایک گنہگار کا سایہ تم پر نہ پڑ جائے۔ ‘‘ جب آپ آگے بڑھے تو اُنہی لڑکوں نے کہنا شروع کیا کہ ’’راستہ دے دو اب حبیب تائب ہو کر آ رہا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے پیروں کی گَرد اس پر پڑ جائے۔‘‘آپ نے بچوں کی یہ بات سن کر بارگاہِ خداوندی میں عَرْض کی :’’ تیری قدرت بھی عجیب ہے کہ آج ہی میں نے توبہ کی اور آج ہی تو نے لوگوں کی زبان سے میری نیک نامی کا اِعلان کرا دیا !‘‘
اس کے بعد آپ نے مُنادِی کرا دی کہ جو شخص میرا مقروض ہو وہ اپنی تحریر اور مال واپس لے جائے ۔آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے اپنی بقیہ دولت راہِ خدا میں لُٹا دی اور ساحلِ فُرات پر ایک عبادت خانہ تعمیر کر کے عبادت میں مشغول ہورہے ۔آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکا یہ معمول تھا کہ دن کو علمِ دین کی تحصیل کے لیے حضرت ِسیدنا حَسَن بَصری علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویکی خدمت میںحاضر ہوتے اور رات کوشب بیدار رہ کر عبادت کیا کرتے۔چونکہ قرآن مجید کا تَلَفُّظ صحیحمَخْرَج سے ادا نہیں کر سکتے تھے اس لیے آپکو