Brailvi Books

حرص
128 - 228
 امیر تھے اور اہل بصرہ کو سُود پر قرضہ دیا کرتے تھے ۔ جب مقروض سے قَرْض کا تقاضا کرنے جاتے تو اس وقت تک نہ ٹلتے جب تک قرض وصول نہ ہو جاتا ۔ اگر کسی مجبوری کی وجہ سے قرض وصول نہ ہوتا تو مقروض سے اپنا وَقْت ضائع ہونے کا ہرجانہ وُصول کرتے اور اس رقم سے زندگی بسر کرتے ۔ایک دن کسی کے یہا ںوُصولی کے لیے پہنچے تو وہ گھر پر موجود نہ تھا ۔ اس کی بیوی نے کہا کہ ’’ نہ تو شوہر گھر پر موجود ہے اور نہ میرے پاس تمہارے دینے کے لیے کوئی چیز ہے ،البتہ میں نے آج ایک بھیڑ ذبح کی ہے جس کا تمام گوشت تو ختم ہو چکا ہے البتہ سِری باقی رہ گئی ہے ،اگر تم چاہو تو وہ میں تم کو دے سکتی ہوں۔‘‘ آپ نے اس سے سِری لی اور گھر پہنچ کر بیوی سے کہا کہ یہ سُود میں ملی ہے اسے پکا ڈالو۔بیوی نے کہا : ’’گھر میں نہ لکڑی ہے اور نہ آٹا ،بھلا میں کھانا کس طرح تیار کروں ؟‘‘آپ نے کہا : ’’ان دونوں چیزوں کا بھی انتظام مقروض لوگوں سے سود لے کر کرتا ہوں ۔‘‘اور سود ہی سے یہ دونوں چیزیں خریدکر لائے ۔ جب کھانا تیار ہو چکا تو ایک سائل نے آکر سوال کیا۔ آپ نے کہا کہ’’ تجھے دینے کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے اور کچھ دے بھی دیں تو اس سے تُو دولت مند نہ ہو جائے گا لیکن ہم مُفْلِس ہو جائیں گے۔‘‘چنانچہ سائل مایوس ہو کر واپس چلا گیا۔ جب بیوی نے سالن نکالنا چاہا تو وہ ہنڈیا سالن کے بجائے خون سے بھری ہوئی تھی۔ اس نے گھبرا کر شوہر کو آوازدی :’’ دیکھو!تمہاری کنجوسی اور بد بختی سے یہ کیا ہو گیا ہے؟‘‘آپ کو یہ دیکھ کر بڑی عبرت ہوئی اوربے تاب ہوکر گھر سے نکل پڑے ۔گلی