Brailvi Books

حرص
127 - 228
 دے۔   ( ماخوذ ازـ:فتاویٰ رضویہ ج۲۳ص۵۵۱،۵۵۲ وغیرہ)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !      صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حرام مال سے خیرات کرنا کیسا؟
	میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان  علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن کے فرمانِ عالیشان کا خُلاصہ ہے: جس نے مالِ حرام کو اپنا ذاتی مال تصوُّر کر کے بَرِضاء و رغبت ثواب کی نیّت سے خیرات کیا اُس کو ہرگز ثواب نہیں ملیگا بلکہ اس کی بعض صورَتوں کو فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السلام نے کفر قرار دیا ہے۔ اور اگر اُس حرام مال کو حرام ہی سمجھا، اُس پر نادِم ہوا ،توبہ بھی کی مگر شریعت کے حکم کے مطابِق اُس کے مالِکان یا وُرثا ء تک پہنچانا ممکن نہ رہا اور چُونکہ ایسی صورت میں اب اُس کو خیرات کر دینے کا شرعاً حکم ہے لہٰذا اسی حکمِ شرعی کی بجا آوری کی نیَّت سے اُس نے اس مالِ حرام کو خیرات کر دیا۔ تو اگر چِہ اُس مال کی خیرات کا ثواب نہ ملیگا مگر خیرات کر دینے کے’’ حکمِ شرعی ‘‘ پر عمل کرنے کے ثواب کا حقدار ہو گا بلکہ اُس کا یہ فعل اُس کی توبہ کی تکمیل کا باعِث ہے۔( اس کی تفصیلی معلومات کیلئے فتاوٰی رضویہ جلد19 صَفْحَہ 656تا 661 ملاحَظہ فرما یئے) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حرام مال سے جان چھڑانے کی سبق آموز حکایت
	مشہورولِیُّ اللّٰہ  حضرت ِسیدنا حبیب عجمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الغَنِی پہلے پہل بہت