آج کا صاحبِ مال کل کنگال اور آج کا کنگال کل مالامال ہوسکتا ہے ،توپھر مالِ حرام جیسی ناپائیدارشے کی وجہ سے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو کیوں ناراض کیاجائے!اس لئے ہمیں چاہئے کہ آج اور ابھی اپنے مال واَسباب پر غور کرلیں کہ خدانخواستہ کہیں اس میں حرام تو شامل نہیں،اگرایسا ہو توہاتھوں ہاتھ توبہ کریں اورمالِ حرام سے جان چھڑا لیں اور اگر حرام مال خرچ ہوچکا ہے تو بھی توبہ کیجئے اور درجِ ذیل طریقے پر عمل کیجئے۔
مالِ حرام سے نجات کا طریقہ
شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری دامت برکاتہم العالیہ اپنے رسالے ’’پُراَسرار بھکاری ‘‘ کے صفحہ 26 پر لکھتے ہیں: حرام مال کی دو صورَتیں ہیں: (۱) ایک وہ حرام مال جو چوری، رشوت، غَصَب اور انہیں جیسے دیگر ذرائِع سے مِلاہو اِس کو حاصِل کرنے والا اِس کااصلاً یعنی بالکل مالِک ہی نہیں بنتا اور اِس مال کے لئے شَرعاً فرض ہے کہ جس کا ہے اُسی کو لَوٹا دیا جائے وہ نہ رہا ہو تو وارِثوں کو دے اور ان کا بھی پتا نہ چلے تو بِلا نیّتِ ثواب فقیر پر خیرات کر دے (۲) دوسرا وہ حرام مال جس میں قبضہ کر لینے سے مِلکِ خبیث حاصِل ہو جاتی ہے اور یہ وہ مال ہے جو کسی عقدِ فاسِد کے ذَرِیعہ حاصِل ہوا ہو جیسے سُودیا داڑھی مُونڈنے یا خَشْخَشِی کرنے کی اُجرت وغیرہ ۔ اِس کا بھی وُہی حکم ہے مگر فرق یہ ہے کہ اس کو مالِک یا اُس کے وُرثا ہی کو لَوٹا نا فرض نہیں اوّلاً فقیر کو بھی بِلانیّتِ ثواب خیرات میں دے سکتا ہے۔ البتّہ افضل یِہی ہے کہ مالِک یا وُرثا کو لوٹا