Brailvi Books

حرص
125 - 228
 مقام سے گزرے تودیکھاکہ ایک شخص ہاتھ اٹھائے رو رو کر بڑے رِقَّت انگیز انداز میں مصروفِ دعا تھا۔ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اسے دیکھتے رہے پھربارگاہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں عَرْض گزار ہوئے: اے میرے رحیم وکریم پروردگار! عَزَّوَجَلَّ تُو اپنے اس بندے کی دعا کیوں نہیں قبول کررہا؟ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی طرف وحی نازل فرمائی: اے موسیٰ!   اگر یہ شخص اتنا روئے، اتنا روئے کہ اس کا دَم نکل جائے اور اپنے ہاتھ اتنے بلند کرلے کہ آسمان کو چھولیں تب بھی میں اس کی دُعا قبول نہ کرو ں گا۔ حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے عرض کی: میرے مولیٰ! عَزَّوَجَلَّ اس کی کیا وجہ ہے ؟ارشاد ہوا: یہ حرام کھاتا اور حرام پہنتا ہے اور اس کے گھر میں  حرام مال ہے۔ (عیون الحکایات،الحکایۃ الثانیۃ والخمسون بعد الثلاثمائۃ ،ص۳۱۲) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !        صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مالِ حرام سے جان چھڑا لیجئے
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کوئی شخص جتنا بھی مالِ حرام جمع کرلے، ایک دن ایسا آئے گا کہ اسے یہ سارا مال دنیا میں ہی چھوڑ کر خالی ہاتھ دُنیا سے جانا ہوگا کیونکہ کفن میں تھیلی ہوتی ہے نہ قبر میں تجوری، پھر قبر کو نیکیوں کا نُور روشن کرے گا نہ کہ سونے چاندی کی چمک دمک !الغرض یہ دولت فانی ہے اور ہِرتی پھرتی چھاؤں ہے کہ آج ایک کے پاس تو کل کسی دوسرے کے پاس اور پرسوں کسی تیسرے کے پاس !