Brailvi Books

حرص
122 - 228
 ذریعے بھی !اور ہر شخص دوطریقوں سے مال کماسکتا ہے:(۱) حلال ذریعے سے مثلاً شریعت کے مطابق تجارت کرنایا اُجرت پر کام کرنا وغیرہ (۲)حرام ذریعے سے جیسے شراب وغیرہ بیچنا،چوری،ڈاکے، غَبن، رشوت ،عِصمت فروشی، سوداورجوئے وغیرہ کی کمائی۔
مالِ حرام کا وبال
	حرام کی کمائی سے کوسوں دُور رہنے میں ہی بھلائی ہے کیونکہ اس میں ہرگز ہرگزہرگز برکت نہیں ہوسکتی۔ایسا مال اگرچہ دنیا میں بظاہر کچھ فائدہ دے بھی دے مگر آخرت میں وبالِ جان بن جائے گا لہٰذا اس کی حِرْص سے بچنا لازِم ہے،چُنانچِہسرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم   کافرمانِ عبرت نشان ہے: جوشَخص حرام مال کماتا ہے اور پھر صدَقہ کرتا ہے اُس سے قَبول نہیںکیا جائے گا اور اُس سے خَرچ کرے گا تو اِس کے لیے اُس میں بَرَکت نہ ہوگی اور اسے اپنے پیچھے چھوڑ ے گا تو یہ اس کے لیے دوزخ کا زادِ راہ ہوگا۔(شرح السنۃ للبغوی، ج۴ ،ص۲۰۵،حدیث۲۰۲۳ ) 
 لُقمۂ حرام کی تباہ کاریاں
	تکمیلِ ضروریات اور حصولِ آسائشات کے لئے ہرگزہرگز حرام کمائی کے جال میں نہ پھنسیں کہ یہ آپ کے اور آپ کے گھر والوں کے لئے دنیا وآخرت میں عظیم خسارے کا باعث ہے،شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم