شخص اس لئے حلال کمائی کرتا ہے کہ سوال کرنے سے بچے ، اہل وعیال کے لئے کچھ حاصل کرے اور پڑوسی کے ساتھ حُسنِ سلوک کرے تو وہ قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کا چہرہ چودہویں کے چاند کی طرح چمکتا ہو گا ۔ (شعب الایمان ،باب فی الزہد وقصر الامل ،الحدیث۱۰۳۷۵،ج۷،ص۲۹۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مال کمانے کی اچھی اچھی نیتیں
مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’اللّٰہعَزَّوَجَلَّ آخرت کی نیت پر دنیا عطا فرما دیتا ہے لیکن دنیا کی نیت پر آخرت عطا فرمانے سے انکار کر دیتا ہے۔‘‘(کنزالعمال،کتاب الاخلاق ، باب الزھد،الحدیث:۳۵۰۶،ج۳،ص۵۷)میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ایک عمل میں جتنی نیّتیں ہوں گی اتنی نیکیوں کا ثواب ملے گا،چنانچہ مال کمانے میں حسبِ حال یہ نیتیں کی جاسکتی ہیں: ٭رزقِ حلال کماؤں گا٭حلال کمانے کے فضائل کا حقدار بنوں گا ٭حرام کمانے کی آفتوں سے بچوں گا٭سوال کرنے سے بچوں گا ٭اپنے عیال کی کفالت کروں گا ٭کمایا ہوا مال جائز ونیک کاموں میں خرچ کروں گا ٭ کمائے ہوئے مال سے راہِ خدا میں کچھ نہ کچھ صدقہ کروں گا٭ بقدرِ ضرورت روزی پر قناعت کروں گا ض رشتہ داروں سے صِلہ رحمی کروں گا۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد