وسلَّم نے ارشادفرمایا:بیشک یہ مال سرسبزاورمیٹھاہے پس جس نے اسے اچھی نیت سے لیا تو اسے اس میں برکت دی جائے گی اورجس نے دل کے حرص ولالچ سے حاصل کیا اسے اس میں برکت نہیں دی جائے گی اور وہ ایسا ہے کہ کھا کر بھی سیر نہیں ہوتا ۔(صحیح البخاری،کتاب الرقاق،ج ۴،ص۲۳۰،الحدیث۶۴۴۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
یہ اللّٰہ کی راہ میں ہے
حضرتِ سیِّدُنا کَعْب بِنعُجْرَہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے سامنے سے گزرا۔ صحابہ کرام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم نے اس کی چُستی دیکھ کر عَرْض کی :’’یارسولَ اللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم! کاش اس کی یہ بھاگ دوڑاورچستی اللہ کی راہ میں ہوتی !‘‘ تو آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:’’ اگر یہ اپنے چھوٹے بچوں کی ضرورت پوری کرنے کے لئے نکلا ہے تو بھی یہ راہِ خدا میں ہے اور اگر اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کے لئے نکلا ہے تو بھی راہِ خدامیں ہے اور اگر اپنے آپ کو (لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے یاحرام کھانے سے)بچانے کے لئے نکلا ہے تو بھی راہِ خدا میں ہے اور اگر یہ ریاکاری اور تفاخُر کے لئے نکلا ہے تو پھر یہ شیطان کی راہ میں ہے ۔‘‘(المعجم الکبیر،الحدیث۲۸۲،ج ۱۹،ص۱۲۹)
چودھویں کا چاند
حضورِ اکرم،نورِ مجسم ،شاہِ بنی آدم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا:جو