Brailvi Books

حرص
118 - 228
نہیں ہے بلکہ اس میں تفصیل ہے ، چنانچہ قدرِ کفایت سے زیادہ مال کمانے کی حِرْص اس لئے رکھنا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کی مدد کرے گا تو یہ حِرْص محمود جبکہ دوسروں پر فخر جتانے کی نیت سے ایسا کرنا مذموم ہے ۔دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1197صفحات پر مشتمل کتاب بہارشریعت جلد3حصہ 16صفحہ 609پر ہے : اتنا کمانا فرض ہے جو اپنے لیے اور اہل و عیال کے لیے اور جن کا نفقہ اس کے ذمہ واجِب ہے ان کے نفقہ کے لیے اورادائے دَین (یعنی قرض وغیرہ ادا کرنے) کے لیے کفایت کرسکے اس کے بعد اسے اِختیار ہے کہ اتنے ہی پر بس کرے یا اپنے اوراہل و عیال کے لیے کچھ پس ماندہ رکھنے کی بھی سعی و کوشش کرے۔ ماں باپ محتاج و تنگدست ہوں تو فرض ہے کہ کما کر انھیں بقدرِ کفایت دے۔قدرِ کفایت سے زائد اس لیے کماتا ہے کہ فقراء و مساکین کی خبر گیری کرسکے گا یا اپنے قریبی رشتہ داروں کی مدد کریگا یہ مستحب ہے اور یہ نفل عبادت سے افضل ہے اور اگر اس لیے کماتا ہے کہ مال ودولت زیادہ ہونے سے میری عزت ووقار میں اضافہ ہو گا، فخر وتکبر مقصود نہ ہو تو یہ مباح ہے اور اگر محض مال کی کثرت یا تفاخر مقصودہے تو منع ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراھیۃ،الباب الخامس عشر فی الکسب،ج۵، ص ۳۴۸) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
اچھی نیت کا کمال اور بری نیت کا وبال
	   رحمتِ عالمیان ،شہنشاہِ کون ومکان ،مالکِ دوجہان صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ