٭جب انسان کا نَفْس نازونِعَم کا عادی ہوجائے اور حلال کمائی سے عیاشیاں پوری نہ ہوسکیں تو وہ حرام مال میں جا پڑتا ہے۔٭مال کی زیادتی کی فِکْر یادِ آخرت سے غافِل کر دیتی ہے ۔٭ حریص کی زندگی بے سکونی، محتاجی، گلے شکوے اور بے صبری میں گزرتی ہے، مال و دولت کی فراوانی کے باوجودوہ دماغی طور پر مُفْلِس رہتاہے ٭ جس کے پاس مال کثرت سے ہو، اُسے لوگوں سے میل جول اور تعلُّقات بڑھانے کی بھی زیادہ ضَرورت ہوتی ہے اور جو اِس چیز میں مبتَلا ہو جائے وہ عُمُوماً لوگوں سے مُنَافَقَت سے پیش آئے گا اور اُنہیں راضی یا ناراض کرنے کے مُعامَلے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کا مُرتکِب ہو گا تو اِس کے نتیجے میں وہ عداوت، کینہ، حسد، رِیاکاری، تکبُّر، جھوٹ، غیبت، چغلی وغیرہ کا باعث بننے والے دیگر کئی بڑے بڑے گناہوں میں مبتَلاہو جائے گا۔
دے حُسنِ اخلاق کی دولت کردے عطا اِخلاص کی نعمت
مجھ کو خزانہ دے تقویٰ کا یااللہ مِری جھولی بھر دے
(وسائلِ بخشش ، ص۱۰۹)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مال کمانے کی حرص
مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ مال نہ تو مُطلَقاً خیر(یعنی بھلائی کی چیز) ہے نہ ہی مَحض شَر( یعنی بُرائی کی شے) ،چنانچہ مال کمانے کی حِرْص بھی ہر صورت میں مذموم