مال کے فوائد
مال انسان کو دوطرح سے فائدہ پہنچا سکتا ہے:(۱)دنیاوی : مثلاً کھانے پینے، لباس ورہائش اور علاج معالجے کے فوائد وغیرہ مال کے ذریعے ہی حاصل کئے جاتے ہیں۔(۲)اُخروی: مثلاً عبادت ( حج وغیرہ) یا عبادت پر مدد حاصل کرنے کے لئے کھانے یا علاج وغیرہ پر خرچ کرنا،لوگوں پر صدقہ وخیرات کرنا ،ثوابِ جاریہ کے ذرائع مثلاً مَساجِد، مَدارِس ،کنوئیں اور پل وغیرہ بنوانا اورعبادت کے لئے وقت نکالنے کی خاطر اپنے کام دوسروں سے اُجرت پر کروانا ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مال کی آفات
مال اگرچہ حلال طریقے سے کمایا جائے دوطرح سے نقصان دے سکتا ہے : (۱)دنیاوی اِعتبار سے اس طرح کہ مال کی حفاظت کا غم ،لُٹ جانے ،چوری ہو جانے کا خوف اورحاسدوں کے حسد سے بچنے کی مشقت انسان کے ساتھ لگی رہتی ہے،جبکہ (۲) دینی اِعتبار سے اس طرح نقصان پہنچا سکتا ہے کہ * گناہ پر قادِر نہ ہونا بھی گناہ سے بچنے کا ایک ذریعہ ہے لیکن مال آنے کے بعد بندہ کئی ایسے گناہوں پر قادِر ہوجاتا ہے جو وہ مال نہ ہونے کی وجہ سے نہیں کرپاتا تھا مثلاً شراب نوشی وغیرہ ۔*مال مباح کاموں میں بھی عیش وعشرت تک پہنچاتا ہے، مالدار سے یہ توقُّع فضول ہے کہ وہ لذیذکھانے چھوڑ کر جَو کی روٹی کھائے گا اور کُھردرے کپڑے پہنے گا۔