مباح کاموں کی حرص
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مُباح کام کرنے میں کوئی ثواب ہے نہ گناہ! لہٰذا بظاہر اس کی حِرْص میں کوئی حرج نظر نہیں آتا لیکن اگر غور کیا جائے تو اس حِرْص میں بھی نقصان کا پہلو موجودہے وہ اس طرح کہ جتنا وقت مباح کاموں کی حِرْص پوری کرنے میں صرف ہوگا وہی وقت اگر نیکیوں کی حِرْص میں خرچ کیا جائے تو نفع ہی نفع ہے ۔اس کی مثال یوں سمجھئے کہ اگر آپ کے پاس کچھ رقم ہو اورآپ کے سامنے دو ایسی چیزیں پیش کی جائیں جن میں سے ایک کو خریدنے میں فائدہ ہے اور دوسری میں نہ نفع نہ نقصان !اورآپ کو ان دونوں میں سے ایک چیز خریدنے کا اِختیار دیا جائے تو یقینا آپ فائدے والی چیز ہی خریدیں گے ، بالکل اسی طرح ہمیں اپنا سرمایۂ وقت نیکیاں کمانے میں خرچ کرنا چاہئے جو دنیا وآخرت میں ہمارے لئے ڈھیروں بھلائیوں کا سبب ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ جائز کاموں کی حِرْص بعض اوقات اتنی بڑھ جاتی ہے کہ حلال کمائی سے اسے پوراکرنا ممکن نہیں رہتا لہٰذا انسان حرام کمانے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔ ہمارے اَسلاف اپنا وقت نیکیاں کمانے میں کس طرح صَرْف کیا کرتے تھے ، اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہو: چنانچہ
قلم کا قَط لگاتے وقت ذکر اللہشروع کردیتے
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ 26 صفحات پر مشتمل رسالے ’’انمول ہیرے ‘‘کے صفحہ 9پرشیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم