کریم عَزَّوَجَلَّ نے میری گریہ و زاری کو قبول فرما لیا ہے ۔
میں نے گناہوں بھری زندگی چھوڑ کر دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول اپنا لیا اور امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے ذریعے مرید ہو کر عطاری بھی بن گیا۔ میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ بغیر کسی علاج اور دوائی کے نشہ کی عادت سے پیچھا چھڑاؤں گا۔ اس کے لیے مجھے شدید ترین آزمائشوں سے گزر نا پڑابلکہ یوں سمجھئے کہ جان کے لالے پڑ گئے۔میں تکلیف کے باعث چیختاچِلّاتااور بُری طرح تڑپتا،حتّی کہ گھر والے میری حالت دیکھ کر رو پڑتے اور مجھے مشورہ دیتے کہ کہیں تمہارا دم ہی نہ نکل جائے، ہیروئن کا ایک آدھ سگریٹ ہی پی لو، تھوڑا سکون مل جائے گاپھر کم کرتے کرتے چھوڑ دینا ۔مگر میں منع کردیتا اور ان سے التجاء کرتا کہ مجھے چار پائی سے باندھ دو۔وہ مجبوراً مجھے باندھ دیتے ۔مجھے سخت تکلیف ہوتی ،سارا بدن درد سے دُکھنے لگتا مگر مجھے یقین تھا کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے ۔الحمد للّٰہ عَزَّوَجَلَّ آہستہ آہستہ میری حالت بہترہونے لگی اور بالآخر پیر و مرشد امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے صدقے مجھے نشے کے اثرات سے نَجَات مل گئی اورمیں مکمل طور پر صحت یاب ہوگیا۔’’ اللہعَزَّوَجَلَّ کا کیسا کرم ہے کہ کل کا ہیروئنچی آج دعوتِ اسلامی کا مبلغ بن کر نیکی کی دعوت دینے کی سعادت پارہا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اُن کی آنکھوں میں آنسوؤں کے ستارے جھلملانے لگے۔
(اُس اسلامی بھائی کا کہنا ہے کہ) اُن کی حیرت انگیز رُوداد سُن کر ہم بھی اشکبار ہو گئے اور سابقہ گناہوں سے توبہ کرکے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے