Brailvi Books

حرص
110 - 228
 ’’آپ سے کچھ عرض کر نی ہے۔ ‘‘ مجھے زندگی میں پہلی بار کسی نے اتنی محبت سے مخاطب کیا تھا۔ میں اپنی پناہ گاہ سے باہر نکل آیا۔انہوں نے مجھ سے میرا نام وغیرہ پوچھا ، پھر مجھے شبِ براء ت کی اہمیت اور برکتوں کے بارے میں بتانے لگے۔میں ان کے شفقت بھرے انداز ِ گفتگو سے پہلے ہی متاثر ہو چکا تھا۔جب انہوں نے مجھے اس رات کی عظمت سے آگاہ کیا تو میرے ضمیر نے مجھے جھنجھوڑا کہ کیا اتنی عظیم رات بھی میں اپنے خالق عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی میں گزاروں گا جس میں بڑے بڑے گناہ گاروں کو بخش دیا جاتا ہے،مگرآہ! نشہ کرنے والابدنصیب مغفرت کے پروانے سے محروم رہتا ہے۔یہ سوچ کر میں تڑپ کر رہ گیا ،محرومی کے صدمے نے مجھے بے چین کردیا ۔ اُن اسلامی بھائیوں کی اِنفرادی کوشش رنگ لائی اور میں نے اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کو منانے کی ٹھان لی ۔ چنانچہ میں اُن کے ساتھ مسجد کی طرف چل دیا اور غسل کر کے کپڑے (جو کسی نے ترس کھا کر مجھے کچھ ہی دن پہلے دئیے تھے)تبدیل کئے ۔ 16برس کے بعد جب میں مسجد میں داخل ہوا اور نماز کی نیت باندھی تومجھ پر ایسی رقّت طاری ہوئی کہ رحمتِ الٰہی کی بارش میری آنکھوں کے ذریعے رُخساروں کو تَر کرنے لگی ۔امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ اور دعوتِ اسلامی پر رب تعالیٰ کی کروڑوں رحمتوں کا نزول ہو جن کی بدولت ایک بھاگا ہوا غلام اپنے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہوگیاتھا۔میں کافی دیر تک اپنے گناہوں کو یاد کر کے روتا اور اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ سے معافی مانگتا رہا ۔ جب میں وہاں سے اٹھا تو مجھے ایسا لگا کہ میرے