Brailvi Books

حرص
109 - 228
آپ بیتی یاد آگئی،لہٰذا میں نے سوچا کہ خدانخواستہ کہیں آپ بھی اس تباہ کن راستے پر نہ چل نکلیں جس پر میں ایک عرصے تک چلتا رہا ہوں ۔
	پھر انہوں نے اپنی داستان ِ عبرت سنائی کہ وہ کس طرح بُرے دوستوں کی صحبت میں پڑے اور ابتداء میں سگریٹ نوشی شروع کی۔ پھر انہیں بُری صحبت کی نحوست نے چرس اور ہیروئن جیسے مہلک نشے کا عادی بنادیا۔’’آہ! میں 16سال تک نشے کا عادی رہا۔‘‘یہ بتاتے ہوئے ان کی آواز بھر آئی ۔ پھرسلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہنے لگے :میری بُری عادتوں سے بیزار ہو کر مجھے گھر سے نکال دیا گیا۔میں فٹ پاتھ پر سوتا اور کچرے کے ڈھیر سے کھانے کی چیزیں چن کر یا لوگوں سے مانگ مانگ کر کھاتا۔آپ کو شاید یقین نہ آئے میں نے ایک ہی لباس میں16 سال گزار دئیے۔میری کیفیت پاگلوں کی سی ہوچکی تھی۔لوگ مجھے دیکھ کر گھِن کھاتے اور قریب سے گزرنا بھی گوارا نہ کرتے ۔میری اُجڑی ہوئی زندگی دوبارہ اس طرح آباد ہوئی کہ ایک رات غالباً وہ شبِ براء ت تھی،میں بدنصیب ایک گلی کے کونے میں کچرے کے ڈھیر کے پا س بنائی ہوئی چھوٹی سے پناہ گاہ میں لیٹا ہوا تھا کہ کسی نے مجھے بڑے ہی پیارے انداز سے سلام کیا ۔میں نے حیرانی کے عالم میں نگاہ اٹھائی کہ مجھ جیسے گندے شخص سے کسی کو کیا کام ہوسکتا ہے؟مجھے اپنے سامنے نورانی چہروں والے2 اسلامی بھائی نظر آئے جن کے سروں پر سبزعماموں کے تاج تھے ۔وہ آگے بڑھتے ہوئے بڑی اپنائیت سے کہنے لگے: