Brailvi Books

حرص
108 - 228
 ہِیرَوئِنچی کی توبہ
 	بابُ المدینہ (کراچی) کے علاقے کورنگی کے ایک اسلامی بھائی کے حلفیہ بیان کا خلاصہ ہے کہ میں ایک آوارہ گرد نوجوان تھا ۔دوستوں کے ساتھ فضول گپ شپ اور سگریٹ نوشی میرا معمول تھا ۔ ہم سب دوستوں کے سدھرنے کا اہتمام کچھ اس طرح سے ہوا کہ ہم نے بابُ المدینہ کراچی (کورنگی ساڑھے تین )میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے بین الاقوامی سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی۔ (یہ باب المدینہ کراچی میں 1993ء میں ہونے والا آخری بین الاقوامی اجتماع تھا ،اس کے بعد اجتماع مدینۃ الاولیاء(ملتان شریف) میں منتقل ہوگیاتھا۔) ہم اجتماع میں شریک تو ہوئے مگر ساتھ ہی ساتھ یہ پروگرام بنایا کہ رات کے وقت اِجتماع گاہ سے باہر جاکر خوب گُھومیں پھریں گے اور سگریٹ بھی پیئیں گے۔چنانچہ جب رات ہوئی تو ہم نے سگریٹ کے پیکٹ خریدے اور اکٹھے بیٹھ کر سگریٹ نوشی شروع کر دی ۔ جن بھوت وغیرہ کے ڈراؤنے واقعات سنائے جانے لگے ،جس کی وجہ سے ماحول خاصا دلچسپ اور سنسنی خیز ہوگیا ۔ہم یونہی گپ شپ میں مگن تھے کہ ایک ادھیڑ عمر کے اسلامی بھائی( جن کے سر پر سبز عمامہ شریف تھا)نے قریب آکر ہمیںسلام کیااور ہمارے درمیان آبیٹھے ۔انہوں نے بڑی شفقت سے کہا: ’’اگر آپ اجازت دیں تو میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔‘‘ہم نے کہا: ’’فرمائیے۔‘‘وہ کہنے لگے کہ اتفاق سے میں آپ لوگوں کو سگریٹ پیتے اور اِدھر ُادھر گھومتے ہوئے بہت دیر سے دیکھ رہا ہوں۔ آپ لوگوں کا یہ انداز دیکھ کر مجھے اپنی