Brailvi Books

حرص
107 - 228
 توبہ کر لی اور وہاں سے پلٹ پڑا۔راستے میں پیاس کے مارے دم لبوںپر آگیا۔ اتفاقاً اس کی ملاقات ایک شخص سے ہو گئی جو کہ کسی نبی علیہ السلام کا قاصد تھا۔ اس مردِ قاصد نے پوچھا: اے جوان کیا حال ہے؟قصاب نے جواب دیا: ’’پیاس سے نڈھال ہوں ۔‘‘قاصد نے کہا کہ’’ آؤ ہم دونوں مل کر خدا عَزَّوَجَلَّ سے دعا کریں تاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ابر کے فرشتے کو بھیج دے اور وہ شہر پہنچنے تک ہم پر اپنا سایہ کئے رکھے۔‘‘ نوجوان نے کہا کہ ’’میں نے تو خدا عَزَّوَجَلَّ کی کوئی قابلِ ذکر عبادت بھی نہیں کی ہے، میں کس طرح دعا کروں؟تم دعا کرو میں آمین کہوں گا۔‘‘اس شخص نے دعا کی ، بادل کا ایک ٹکڑا ان کے سروں پر سایہ فگن ہو گیا ۔
	جب یہ دونوں راستہ طے کرتے ہوئے ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو وہ بادل قصاب کے سر پر آ گیا اور قاصد دھوپ میں ہو گیا ۔قاصد نے کہا :’’اے جوان! تُونے تو کہا تھا کہ میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کچھ بھی عبادت نہیں کی ،پھر یہ بادل تیرے سر پر کس طرح سایہ فگن ہو گیا؟تُو مجھے اپنا حال سنا۔‘‘نوجوان نے کہا :’’اور تو مجھے کچھ معلوم نہیں لیکن ایک کنیز سے خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ  کی بات سن کر میں نے توبہ ضرور کی تھی۔‘‘ قاصد بولا:’’تو نے سچ کہا، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حضور میں جو مرتبہ و درجہ تائب(توبہ کرنے والے) کا ہے وہ کسی دوسرے کا نہیں ہے۔‘‘  (کتاب التوابین ، تو بۃ القصاب والجاریۃ ، ص۵۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !     صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد