اُمت ِ رسول کے قافلے رات میں سفر نہیں کرتے اور گھروں میں عورتیں میرا نام لے کر بچوں کو ڈراتی ہیں۔‘‘
آپ مسلسل روتے رہے یہاں تک کہ صبح ہوگئی اور آپ نے سچی توبہ کر کے یہ ارادہ کیا کہ اب ساری زندگی کعبۃ اللہ (زَادَ ھَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّ تَعظِیْماً) کی مجاوری اور اللہعَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں گزاروں گا ۔ چنانچہ آپ نے پہلے علمِ حدیث پڑھنا شروع کیا اور تھوڑے ہی عرصے میں ایک صاحبِ فضیلت محدث ہوگئے اور حدیث کا درس دینا بھی شروع کر دیا ۔ (اولیائے رجال الحدیث ص۶۰۲)
اللہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(2) بادل نے سایہ کیا
حضرت ِسَیِّدُنا شیخ بکر بن عبد اللّٰہ مزنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الغَنِی کہتے ہیں کہ ایک قصاب اپنے پڑوسی کی کنیز پر عاشق تھا۔ایک دن وہ کنیز کسی کام سے دوسرے گاؤں کو جا رہی تھی ، قصاب نے موقع غنیمت جان کر اس کا پیچھاکیا اور کچھ دور جا کر اسے پکڑ لیا ۔ تب کنیز نے کہا کہ ’’اے نوجوان!میرا دل بھی تیری طرف مائل ہے لیکن میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّسے ڈرتی ہوں۔‘‘جب اس قصاب نے یہ سنا تو بولا: ’’جب تو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتی ہے تو کیا میں اس ذاتِ پاک سے نہ ڈروں ؟‘‘یہ کہہ کر اس نے