لگائیے، چنانچہ
(1) ڈاکو محدِّث کیسے بنا؟
حضرتِ سَیِّدُنا فضیل بن عیاض علیہ رَحمۃُ اللّٰہِ التَّوّاب بہت نامور محدث اور مشہور اولیائے کرام میں سے ہیں۔ یہ پہلے زبردست ڈاکو تھے ۔ ایک مرتبہ ڈاکہ ڈالنے کی غرض سے کسی مکان کی دیوار پر چڑھ رہے تھے کہ اتفاقاً اس وقت مالکِ مکان ’’قراٰنِ مجید‘‘ کی تلاوت میں مشغول تھا۔ اس نے یہ آیت پڑھی:
اَلَمْ یَاۡنِ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخْشَعَ قُلُوۡبُہُمْ لِذِکْرِ اللہِ (پ۷۲،الحدید:۶۱)
ترجمۂ کنزالایمان: کیاایمان والوں کو ابھی وہ وقت نہ آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللّٰہ کی یاد (کے لئے )۔
جونہی یہ آیت آپ کی سماعت سے ٹکرائی، گویا تاثیر ِربّانی کا تیر بن کر دل میں پیوست ہوگئی اور اس کا اتنا اثر ہوا کہ آپ خوفِ خدا عَزَّوَجَلَّ سے کانپنے لگے اور بے اختیار آپ کے منہ سے نکلا: ’’کیوں نہیں میرے پرورد گار! عَزَّوَجَلَّ اب اس کا وقت آگیا ہے۔‘‘ چنانچہ آپ روتے ہوئے دیوار سے اتر پڑے اور رات کو ایک سنسان اور بے آباد کھنڈر نما مکان میں جاکر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد وہاں ایک قافلہ پہنچا تو شرکائے قافلہ آپس میں کہنے لگے کہ ’’رات کو سفر مت کرو، یہاں رک جاؤ کہ فضیل بن عیاض ڈاکو اسی اطراف میں رہتا ہے۔‘‘ آپ نے قافلے والوں کی باتیں سنیں تو اور زیادہ رونے لگے کہ ’’افسوس! میں کتنا گناہ گار ہوں کہ میرے خوف سے