موجود تھا۔ پھر جب ہماراقافلہ حج کے بعد اپنے علاقے میں پہنچا تو لوگو ں نے اس شخص کی زوجہ سے پوچھا: ’’ تمہارا شوہر ایسا کون سا گناہ کرتا تھا جس کی وجہ سے اس کو ایسی درد ناک سزا ملی؟‘‘ اس عورت نے افسوس کرتے ہوئے کہا : ’’میرا شوہر غَلّے کا تاجر تھااوروہ غلّے میں مِلاوٹ کیا کرتاتھا۔ روزانہ گھر والوں کی ضرورت کے مطابق گندم نکال لیتا اور اتنی مقدار میں جَو کا بُھوسا گندم میں ملا دیتا ،یہ اس کا روز کا معمول تھا ، لگتا ہے اُسے اِسی گناہ کی سزا دی گئی ہے ۔ ‘‘(عیون الحکایات، الحکایۃ الرابعۃ عشرۃ بعد المأۃ،ص۲۳۱)
پانی کے چند قطروں کا وبال
حضرتِ علامہ عبدالرحمن ابن جوزی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی لکھتے ہیں:کسی گاؤں میں ایک دودھ فَروش رہا کرتاتھاجودو دھ میں پانی ملایا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ سیلاب آیا اور اس کے مویشی بہاکرلے گیاتو وہ روتے ہوئے کہنے لگا کہ سب قطرے مل کر سیلاب بن گئے جبکہ قضاء اسے ندادے رہی تھی :
ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰکَ وَ اَنَّ اللہَ لَیۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیۡدِ ﴿٪۱۰﴾ ( پ۷۱،الحج:۰۱)
ترجمۂ کنز الایمان:یہ اس کابدلہ ہے جو تیرے ہاتھوں نے آگے بھیجا اوراللہ بندوں پرظلم نہیں کرتا۔
یادرکھو! چوری او رخیانت ہلاکت میں ڈالنے والے اور دین کے لئے شدید ضرررساں ہیں۔(بحرالدموع،الفصل الثانی والثلاثون تحریم الربا۔۔۔الخ،ص۲۱۲)