کی باتیں سُن کر گردن جھکانے والا تھا۔ اگرچہ آپ حقیقی مجرم ہی ہوں گے تو اس سَبَب سے اُمِّید ہے کہ آپ کی نجات کا سامان ہو ہی جائے گا۔ (1)
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! مشائخِ کرام کے ملفوظات شریف کی یہی وہ برکتیں ہیں جن کی وجہ سے بعض بُزُرْگانِ دِیْن رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے دیگر لوگوں تک فیض پہنچانے کی نِیَّت سے انہیں لکھنے کی نہ صِرف اِجازَت عَطا فرمائی بلکہ ترغیب بھی دلائی۔ جیسا کہ سلطان المشائخ ، حضرت سَیِّدُنا بابا فرید گنج شکر رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: وہ مرید کتنا سَعَادَت مند ہے جو اپنے پیر کے ارشادات لکھ لیا کرے اور اس غَرَضْ سے ہر دم اپنے پیر کی طرف مُتَوجّہ رہے ۔ (2)
حضرت خواجہ میر حسن سنجری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے پیر ومرشد حضرت سَیِّدُنا خواجہ نظامُ الدّین اولیا رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے ان کے ملفوظات لکھنے کی اِجازَت طَلَب کی تو آپ نے نہ صِرف اِجازَت دی بلکہ بطورِ ترغیب اِرشَاد فرمایا: جب میں شیخ الاسلام فرید الدینرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا مرید ہوا تو میں نے دل میں ٹھان لی کہ جو کچھ آپ کی زبانِ مبارک سے سنوں گا لکھتا جاؤں گا ۔ چُنَانْچِہ ملفوظات لکھنے کا سلسلہ جاری رہا اور اسکی اِطِّلَاع میں نے اپنے پیرو مرشد کو بھی کردی ، جس پر آپ کی شَفْقَت اس طرح سامنے آئی کہ جب کبھی کوئی حِکَایَت وغیرہ بیان فرماتے تو میرے مُتَعَلِّق پوچھ لیتے ۔ اگر میں مَوجُود نہ ہوتا تو حاضِر ہونے پر بیان کردہ فوائد میرے سامنے دوبارہ بیان فرما دیتے ( تاکہ میں لکھ لوں) ۔ (3)
________________________________
1 - نفحات الانس ، ۳۶۰-ابو علی الشبوی المروزی ، ص ۳۳۲
2 - راحت القلوب فارسی ، ص ۲
3 - فوائد الفؤاد فارسی ، ص ۳۰