Brailvi Books

ہفتہ وار مدنی مذاکرہ
8 - 70
  کی صُحْبَتِ با بَرَکَت سے پایا اور یُوں یہ سلسلہ ہر دَور میں جاری رہا کہ جو بھی نُورِ مصطفے ٰ  سے فَیْض پانے والوں کی صُحْبَت اِخْتِیار کرتا اس کا سینہ بھی مدینہ بن جاتا۔ (1) چُنَانْچِہ یہی وجہ ہے کہ ہمارے بُزُرْگانِ دِیْن رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِم نے ہمیشہ مشائخ کے ملفوظات یعنی ان کی باتوں اور نصیحتوں کے مَدَنی پھولوں کو انتہائی تَوَجُّہ سے سننے کی تلقین فرمائی۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا شیخ شہابُ الدّین سہروردیرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: شیخ کی خِدْمَت میں حاضِری کے وَقْت مرید کی مِثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص سمندر کے کنارے بیٹھا ہوا رِزْق کا مُنْتَظِر ہو۔ یعنی وہ شیخ کی آواز پر کان لگائے رکھے اور کلامِ شیخ کے ذریعے اپنے رُوحانی رِزْق کا اِنتِظار کرتا رہے ، اس طرح اس کی عقیدت اور طَلَبِ حق کا مَقام مَضْبُوط ہوتا ہے اور وہ اللہ پاک کے فَضْل کا مُسْتَحِق ٹھہرتا ہے ۔ (2)بلکہ اگر مشائخ کی باتیں سمجھ میں نہ آئیں تو بھی ان کی خِدْمَت میں حاضِر ہونا تَرْک نہ کریں کہ بُزُرْگانِ دِیْن رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: اللہ والوں کی خِدْمَت میں حاضِر رہیں  اور ان کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے والوں سے بھی فیض حاصِل کرتے رہیں ،  خواہ کبھی اس مُعَامَلے میں آپ کو طعن و تشنیع کا سامنا ہی کرنا پڑے ۔ اس لئے کہ ( کل بروزِ قِیامَت) جب یہ پوچھا جائے کہ آپ کون ہیں؟ تو کہہ سکیں کہ میں تو اللہ والوں کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے والا اور ان کا دوست ہوں۔ نیز اگر کبھی آپ کو ان کی باتیں سمجھ میں نہ آئیں تو وہ جو بھی اِرشَاد فرمائیں بس سر جھکا دیں ،  تاکہ کل بروزِ قِیامَت یہ کہہ سکیں کہ میں تو اللہ والوں



________________________________
1 -      حقائق عن التصوف ،  ص ۴۱ ملخصًا
2 -      عوارف المعارف ملحق احیاء العلوم ، الباب الحادی و الخمسون فی آداب المرید مع الشیخ ، ۵ / ۲۶۳