لازِم ہے ۔ (1)کیونکہ جو شخص بزرگوں کی صُحْبَت بطریْقِ عزّت نہیں کرتا اس پر انکے فائدے اور برکتیں حَرام ہو جاتی ہیں ، ان کے نور کا کچھ حِصّہ بھی اس پر ظاہِر نہیں ہوتا۔ (2)
حضرت سَیِّدُنا علّامہ برہانُ الدین زُرْنُوجیرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: عِلْم تو وہی ہے جو اَہْلِ عِلْم( یعنی اکابِر عُلَمائے کرام ) کی زبانوں سے سُن کر حاصِل کیا گیا ہو کیونکہ وہ عِلْم انکی زِنْدَگی کا نچوڑ ہوتا ہے ، وہ اس طرح کہ وہ جو کچھ سُنتے ہیں ، اس میں سے اَحْسَن اور عُمْدَہ مَحْفُوظ کر لیتے ہیں ، لہٰذاان کے منہ سے نکلے ہوئے اِرشادات سب کے سب عُمْدَہ اور بہتر باتوں پر ہی مُشْتَمِل ہوتے ہیں۔ (3)
بزرگوں کی صحبت و ملفوظات کا فیضان
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! ہمیں بھی چاہئے کہ بزرگوں کی صُحْبَت و زِیَارَت کے ذریعے اپنے مَدَنی کاموں کو برکتوں سے ہمکنار رکھیں۔ کیونکہ انسان کی شَخْصِیَّت اور اسکے اَخلاق و کردار پر صُحْبَت کا گہرا اَثَر پڑتا ہے ۔ لِہٰذا اللہ والوں کی صُحْبَت سے اچّھے اَخلاق ، اِیمان کی پختگی اور مَعْرِفَتِ اِلٰہی جیسی اعلیٰ صِفَات حاصِل ہوتیں اور بُرے اَخلاق سے نجات ملتی ہے ۔ جیسا کہ صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو بُلَند مَقام و مرتبہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صُحْبَت کے سَبَب ملا ، پھر تَابِعِیْنِ عُظَّام رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِم نے یہ شَرف صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان
________________________________
1 - فیض القدیر ، حرف الباء ، فصل فی المحلی بأل من ھذا الحرف ، ۳ / ۲۸۷ ، تحت الحدیث: ۳۲۰۵
2 - نفحات الانس ، ۲۴۸-ابو علی الثقفی ، ص ۲۲۶
3 - تعلیم المتعلم طریق التعلم ، فصل فی الاستفادة واقتباس العلم ، ص۷۳