Brailvi Books

ہفتہ وار مدنی مذاکرہ
6 - 70
سرِ دست ( فی الوَقْت) یہ تین۳ بُنْیَادِی اور بڑے نُقصانات ( Losses) ذِکْر کئے گئے ہیں ورنہ شَرْعِی مَعْلُومَات نہ لینے کے نُقصانات کی ایک طویل فہرست ہے ،  جسے یہاں ذِکْر کرنا مُمکِن نہیں۔ دُعا ہے کہ اللہ تعالی ہر مسلمان کو عقائد ،  عِبادات ، مُعَامَلات اور زِنْدَگی کے ہر شعبے میں شَرْعِی مَعْلُومَات حاصِل کرنے اور اس کے مُطابِق عَمَل کرنے کی توفیق عَطا فرمائے ۔ (1)
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب ! 	صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
علم کہاں سے سیکھا جائے ؟
فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : اَلْبَرَكَةُ مَعَ اَكَابِرِكُمْ یعنی بَرَکَت تمہارے بڑوں کے ساتھ ہے ۔ (2)حضرتِ سَیِّدُنا اِمام عبد الرؤوف مَناوی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں کہ اس حدیثِ پاک میں مُـخْتَلِف اُمُور و حاجات میں تجربہ کار ہونے کی بِنا پر بڑوں سے رُجُوع کر کے بَرَکَت حاصِل کرنے کی ترغیب دِلائی گئی ہے ۔ بڑوں سے کون حضرات مُراد ہیں ، مزید وَضَاحَت کرتے ہوئے اِرشَاد فرماتے ہیں کہ بڑوں سے مُراد یا تو عمر رسیدہ حضرات ہیں تا کہ ان کے پاس بیٹھ کر ان کی زِنْدَگی بھر کے تجربات سے فائدہ اُٹھایا جا سکے یا پھر عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ مُراد ہیں خواہ وہ کم عمر ہی ہوں کیونکہ اللہ پاک نے انہیں عِلْم کی عَظَمَت عَطا فرمائی ہے ، لِہٰذا  ان کی عزّت کرنا بھی سب پر



________________________________
1 -      صراط الجنان فی تفسیر القرآن ،  پ۱۷ ،  الانبیآء ، تحت الآیۃ: ۷ ،  ۶ / ۲۸۷
2 -      مكارم الاخلاق للخرائطی ،  باب اکرام الشیوخ و توقیرھم ،  ۲ /  ۲۱۴ ،  حدیث: ۳۸۳