کوئی اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مرید یا طالب ہونا چاہے تو ہو سکتا ہے ۔ (1)
سوال 11 : کیا ایک شخص دو۲ پیروں کا مُرید ہو سکتا ہے یا نہیں ؟
جواب : جی نہیں ! ایک شخص دو۲ پیروں کا مُرید نہیں ہو سکتا ، البتہ ! دوسرے پیر کا طالِب ہو سکتا ہے ۔ (2)
سوال 12 : ہر بار مدنی مذاکرے میں اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ توبہ و بَـیْعَت کرواتے ہیں جس نے پہلے بَـیْعَت کر لی ہو کیا وہ دوبارہ بَـیْعَت ہو سکتا ہے ؟
جواب : جی ہو سکتا ہے ۔
سوال 13 : کیا گناہ کرنے سے بَـیْعَت ٹوٹ جاتی ہے ؟
جواب : گناہ کے اِرْتِکاب سے بَـیْعَت نہیں ٹوٹتی ، البتہ ایک بار توبہ کر لینے کے بعد اگر کوئی دانستہ یا نادانستہ کسی گناہ کا مُرْتکِب ہو جائے تو وہ دوبارہ توبہ کرنے میں دیر نہ کرے کہ توبہ کے بعد گناہ کر لینا ایک مُصِیْبَت ہے اور دوبارہ توبہ نہ کرنا مزید نقصان دہ ہے ۔ (3)
سوال 14 : کیا ریکارڈ شُدہ الفاظِ بَـیْعَت سے مُرید ہو سکتے ہیں؟
جواب : ریکارڈِڈ اَلْفَاظ سے بَـیْعَت نہ ہوگی ، کہ یہاں ریکارڈنگ کا حُکْم اصل کی طرح نہیں ، جیسا کہ ریکارڈڈ اذان کو ہر اذان کے وَقْت چلا دینے سے اذان نہیں ہوتی ، اسی طرح
________________________________
1 - تفصیل کے لئے دیکھئے: دار الافتاء اہلسنت مرکز الاولیاء لاہور ، بتاریخ ۱۱شوال المکرم۱۴۳۲ بمطابق 10ستمبر 2011ء / فتاویٰ اہلسنت ، آٹھواں حصہ ، ص۲۰
2 - تفصیل کے لئے دیکھئے: فتاوی اہلسنت ، آٹھواں حصہ ، ص ۲۱ ، فتاوی رضویہ ، ۲۶ / ۵۵۸
3 - فتاوی اہلسنت ، آٹھواں حصہ ، ص۲۲تا۲۴ ماخوذا