کوئی فائدہ نہ ہو یا مسئول کو پریشان کرنے یا اس کو عاجز یعنی اس کی لاعِلمی ظاہِر کرنے کیلئے سوال کرنا۔ (1)صراط الجنان فی تفسیرالقرآن جلد اول صفحہ 186 پر ہے : عوام الناس کو چاہئے کہ اس بات کو پیشِ نَظَر رکھیں کہ عُلما اور مُفتیانِ کرام سے وُہی سوال کئے جائیں جن کی حاجَت ہو ، زمین پر بیٹھ کر خواہ مخواہ چاندپر رہائش کے سوال نہ کئے جائیں ۔ بعض لوگ عُلما کو پریشان کرنے یاان کا اِمْتِحَان لینے یا ان کی لاعلمی ظاہِر کرنے کے لئے سوال کرتے ہیں یہ سب ناجائز ہیں۔ حضرتِ ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے رِوایَت ہے کہ سرکارِ دو۲ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا : میں تمہیں جس کام سے مَنْع کرو اس سے رُک جاؤ اور جس کام کا حُکْم دوں اسے اپنی طَاقَت کے مُطابِق کرو ، تم سے پہلے لوگوں کو ان کے سوالا ت کی کَثْرَت اور اپنے اَنۢبِیَائے کرام عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اِخْتِلاف کرنے نے ہلا ک کیا(2)۔ (3)
سوال 7 : دوران ِمَدَنی مُذاکَرَہ کیمرے کے سامنے جان بوجھ کر ایسی شَکْل و صُورَت بنانا یا کوئی ایسا کام کرنا ( مثلاً کوئی خاص پلے کارڈ ہاتھ میں اٹھائے رکھنا وغیرہ) کہ بار بار اس کی تصویر مَدَنی چینل پر آئے کیسا؟
جواب : یہ کوشش کرنا کہ میں مدنی چینل پر آجاؤں شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ کوئی
________________________________
1 - فتح الباری ، کتاب العلم ، باب قول المحدث حدثنا او اخبرنا و انبانا ، ۱ / ۱۹۳ ، تحت الحدیث: ۶۱
2 - مسلم ، کتاب الفضائل ، باب توقیرہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وترک اکثار…الخ ، ص۹۲۰ ، حدیث: ۱۳۰-( ۱۳۳۷)
3 - فتویٰ دارالافتا اہل سنت ، غیر مطبوعہ ، ریفرنس نمبر: 5824 Sar