جواب : مَنْع ہے ۔ افتاء مکتب کے مدنی پھول جب آگئے تو اس کی حاجت نہ رہی۔
سوال 5 : مَدَنی مذاکرے میں کسی اِسْلَامی بھائی کا اَچّھے لفظوں میں تَذْکِرہ ہوا تو اس اِسْلَامی بھائی کا وہ ویڈیو کلپ ( Video Clip) سب کو دِکھاتے پھرنا کیسا؟
جواب : مطلقا ًتو حَرَج نہیں۔ انسانی فِطرَت ہے کہ انسان اپنی تعریف پر خوش ہوتا ہے ۔ ہاں اگر وہ خوبی اس میں نہ ہو تو تعریف پر خوش ہونا مَنْع ہے ۔
سوال 6: مدنی مذاکرے میں بطورِ اِمْتِحَان سوال کرنا کیسا؟
جواب : علما و مُفتیانِ کرام کو پریشان کرنے یا ان کا اِمْتِحَان لینے یا ان کی لاعلمی ظاہِر کرنے کیلئے سوال کرنا ناجائز و گناہ ہے ۔ کسی کو پریشان کرنے یا اس کا اِمْتِحَان لینے کے لئے سوال کرنے کے بارے میں حدیثِ پاک ہے : حضرتِ مُعاوِیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِ ی ہے کہ رسولاللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پہیلیاں ( بجھارتیں) ڈالنے سے مَنْع فرمایا ہے ۔ (1)اس حدیثِ پاک کی وَضَاحَت کرتے ہوئے علامہ بدرُ الدین عینی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہعُمدۃ ُالقاری میں لکھتے ہیں: اس حدیثِ پاک سے مُراد یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی کو پریشان کرنے یا اس کو عاجِز یعنی اس کی لاعلمی ظاہِر کرنے یا اس کو شَرْمِندہ اور ذلیل کرنے کیلئے سوال کرے ( تو یہ سوال کرنا جائز نہیں ہے ) ۔ (2) اور فتح الباری میں ہے : یعنی اس حدیث پاک سے مُراد یہ ہے کہ ایسا سوال کرنا جس کا
________________________________
1 - ابوداود ، کتاب العلم ، باب التوقی فی الفتیا ، ص۵۸۰ ، حدیث: ۳۶۵۶
2 - عمدة القاری ، کتاب العلم ، باب قول المحدث حدثنا او اخبرنا و انبانا ، ۲ / ۲۱ ، تحت الحدیث: ۶۱