چاہئے جیسا کہ حُجَّةُ الْاِسلام اِمام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالوَالِی فرماتے ہیں: ( وَعْظ سننے والے کو) چاہیے کہ ہمیشہ خُشُوع و خُضُوع ( عاجزی وانکساری) کی کَیْفِیَّت پیداکرنے کی کوشش کرے ، جوکچھ سنے اسے یاد رکھنے کی کوشش کرے ، ہمیشہ خاموش رہنے کی عادَت اپنائے ۔ (1)
سوال 3 : مَدَنی مذاکرے میں سوال کرتے ہوئے دِینی یا دُنْیَاوِی مَنْصَب بیان کرنا ریاکاری میں تو نہیں آئے گا؟
جواب : سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : اَعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نِیَّت کرے ۔ ( )لِہٰذا مَدَنی مذاکرے میں یا کہیں بھی جو کوئی اپنا دِینی یا دُنْیَاوِی مَنْصَب جس نِیَّت سے بیان کرے گا اسی کے مُطابِق حُکْم ہوگا اگر اپنی شہرت اور واہ واہ کروانے یا ریاکاری کا ارادہ ہوا تو گنہگار ہوگا اور اگر تحدیْثِ نِعْمَت یا بطورِ ترغیب بیان کرے تو حرج نہیں ، بلکہ باعِثِ اجر وثواب ہے ۔
اچّھی اچّھی نیّتوں کا ہو خدا ، جذبہ عطا بندۂ مُخلِص بنا ، کر عَفو میری ہر خطا
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سوال4 : مَسْجِد و فِنائے مَسْجِد میں ویڈیو( Video) مَدَنی مُذاکَرَہ دیکھنے کا کیا شَرْعِی حُکْم ہے ؟
________________________________
1 - مجموعه رسائل امام غزالی ، الادب فی الدین ، آداب المستمع ، ص۴۳۳
2 - بخاری ، کتاب بدء الوحی ، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول الله ، حدیث: ۱