تھی : اَگنی ہوتر ( یعنی پوجا) صُبْح شام دو۲ ہی وَقْت کرے ۔ اسی طرح چوتھے باب ( خانہ داری ) ہیڈنگ نمبر 63 میں یہ عبارت مَوجُود تھی : سندھیا ( ہندوؤں کی صُبْح وشام کی عِبَادَت) دو۲ ہی وَقْت کرنا چاہے ۔ یہ عبارت سن اور دیکھ کر اسے دوسرے سوال کا جواب بھی مل چکا تھا۔ اب وہ اِسْلَام سے مزید قریب ہو رہا تھا ، لِہٰذا اس نے مِعْرَاج والے سوال کا جواب چاہا تو مُبَلِّغِ اِسْلَام ، عاشِقِ خیر الاَنام اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی زبانِ مبارک سے عِلْم و حِکْمَت کے پھول جھڑنے لگے اور اَلْفَاظ کچھ یوں ترتیب پائے : مِعْرَاج والے سوال کے جواب کو یوں سمجھنا چاہے ! ایک بادشاہ اپنے ملک کے اِنْتِظام کیلئے ایک نائب مُقَرَّر کرتا ہے ، وہ صوبہ دار یانائب بادشاہ کے حَسْبِ منشا خدمات اَنْجَام دیتا ہے ، بادشاہ اس کی کارگزاریوں سے خوش ہو کر اپنے پاس بلاتا ہے اور اِنعام و خِلْعَتِ فاخِرَہ ( یعنی باعِثِ فَخْر لِباس) عَطا فرماتا ہے نہ یہ کہ اسے بُلا کر مُعَطَّل کر دیتا ہے اور اپنے پاس روک لیتا ہے ۔ یہ د لنشین کلام سن کر وہ غیر مسلم بے ساختہ پُکار اٹھا: آپ نے مجھے خوب مُطْمَئِن کر دیا ، مجھے میرے سب سوالوں کا جواب مل گیا ، میں ابھی اپنے بیوی ، بچوں کو لاتا ہوں اور ہم سب اپنے باطِل مَذْھَب کو چھوڑ کر دِیْنِ اِسْلَام میں داخِل ہوتے ہیں۔ (1)
تُو نے باطِل کو مٹایا اے امام احمدرضا دین کا ڈنکا بجایا اے اِمام احمد رضا(2)
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب ! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 - اعلیٰ حضرت کی انفرادی کوششیں ، ص۱۳
2 - وسائلِ بخشش ( مرمّم) ، ص ۵۲۵