ہے تو تھوڑا تھوڑا کیوں نازِل ہوا ؟ ایک دَم کیوں نہ آیا جبکہ خدا تعالیٰ تواسے یکبارگی اُتارنے پر قادِر تھا ۔ ( 2) بقول تمہارے آپ کے نبی کو مِعْرَاج کی رات خدا نے بلایاتھا ، اگر وہ واقعی خُدا کے مَـحْبُوب تھے تو پھر دنیا میں واپس کیوں بھیج دیئے گئے ؟( 3) عِبَادَت پانچ۵ وَقْت کے مُتَعَلِّق ستیارتھ پرکاش کی عِبارَت دیکھنا مشروط ہوئی ۔
اسکے یہ سوال سن کر مُبَلِّغِ اِسْلَام اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میں تمہارے سوالوں کے جواب ابھی دیتا ہوں ، مگر تم نے جو وعدہ کیا ہے اس پر قائم رہنا ۔ کہا: ہاں ! میں پھر کہتاہوں کہ اگر آپ نے میرے سوالات کے جواب مَعْقُول انداز میں دے دئیے تو میں اپنے بیوی بچوں سمیت مسلمان ہو جاؤں گا ۔ یہ سن کر مُبَلِّغِ اِسْلَام کی زبانِ مبارک سے یہ اَلْفَاظ اَدا ہوئے : تمہارے پہلے سوال کاجواب یہ ہے کہ جو شے عین ضَرورت کے وَقْت دستیاب ہوتی ہے ، دل میں اسکی وَقْعَت زیاہ ہوتی ہے ، اسی لئے کلام پاک کو بتدریج( یعنی درجہ بدرجہ ) نازِل کیاگیا۔ انسان بچے کی صُورَت میں آتا ہے پھر جوان ہوتا ہے پھر بوڑھا ۔ اللہ تعالیٰ اسے بوڑھا پیدا کرنے پر بھی قادِر ہے ، پھر بوڑھا پیدا کیوں نہ کیا ؟انسان کھیتی کرتا ہے ، پہلے پودا نکلتا ہے ، پھر کچھ عرصہ بعد اس میں بالی آتی ہے ، اس کے بعد دانہ برآمد ہوتاہے ، وہ خدائے بزرگ وبرتر تو قادِر ہے ایک دم غلّہ پیدا کر دے ، پھر ایسا کیوں نہ کرتا؟
اپنے پہلے سوال کا مطمئن کُن جواب سن کر وہ غیرمسلم خاموش ہو گیا۔ مُبَلِّغِ اِسْلَام کا اندازِ تبلیغ اسکے دِل میں گھر کر چکا تھا ، اسکی دِلی کَیْفِیَّت چہرے سے عیاں تھی۔ پھر کتاب ستیارتھ پرکاش آگئی ، جسکے تیسرے باب ( تعلیم ) پندرہویں ہیڈنگ میں یہ عبارت مَوجُود