Brailvi Books

ہفتہ وار مدنی مذاکرہ
30 - 70
 کی انفرادی کوششیں صفحہ 13 پر ہے : حضرت علّامہ مولانا سیِّدایوب علی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ اَذانِ ظہر ہو چکی تھی ، مُفَسِّر شَہِیر حضرت علّامہ مولانا نعیم الدِّین مُراد آبادی اور حضرت مولانا رحم الٰہی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِما سرکارِ اعلیٰ حضرت ، مُجَدّدِ دىن و ملّت اِمام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی خِدْمَتِ با بَرَکَت میں حاضِر تھے ۔ نَماز کی تیاری ہو رہی تھی۔ اتنے میں ایک آرِیہ( یعنی غیرمسلم) آیا اور کہنے لگا: اگر میرے چند سوالات کے جوابات دے دیئے جائیں تو میں اور میری بیوی بچے سب مسلمان ہوجائيں گے ۔ نامعلوم اُسکے جوابات میں کتنا وَقْت لگتا ؟ چُنَانْچِہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: کچھ دیر ٹھہر جاؤ ! ابھی نَماز کا وَقْت ہو گیا ہے ،  نَماز کے بعد اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہارے ہر سوال کا جواب دیاجائے گا۔    وہ کہنے لگا: ایک سوال تویہی ہے کہ آپ کے د ین میں عِبَادَت کے پانچ۵ وَقْت کیوں مُقَرَّر ہیں؟ پَرْمِیْشَر( خدا ) کی عِبَادَت جتنی بھی کی جائے ، اچھی ہی ہے ۔ مُفسِّرِ شہیر حضرتِ علّامہ مولانا محمد نعیمُ الدِّین مُرادآبادی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: یہ اِعْتِراض تو خود تمہارے اُوپر بھی وارِد ہوتا ہے ۔ پھر مولانا رحم الٰہی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: تمہارے مَذْھَب کی کتاب ستیارتھ پرکاش  میرے مکان پر مَوجُود ہے ،  ابھی منگوا کر دِکھا سکتا ہوں۔ 
اَلْغَرَضْ طے پایا کہ پہلے نَماز پڑھ لی جائے اتنی دیر میں کتاب بھی آجائے گی ،  پھر اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس غیر مسلم کے دِل سے کُفْرو ضَلَالَت کی گندگی دور کی جائے گی۔ چُنَانْچِہ یہ تینوں بُزرگ حُکْمِ خُداوندی بَجا لانے کے لئے مَسْجِد تشریف لے گئے اور وہ غیرمسلم باہَر گیٹ کے قریب بیٹھ گیا ۔ نَماز کے بعد اس نے یہ سوالات کئے : ( 1) اگر قرآن اللہ کا کلام