Brailvi Books

ہفتہ وار مدنی مذاکرہ
29 - 70
 عَلَیْہ کے اَسَاتِذہ میں ہوتا ہے جو نہ صِرف شہر ِکوفہ بلکہ پورے عراق میں عِلْمِ حدیث کے حوالے سے مَشْہُور تھے ۔ ایک دن حضرتِ سَیِّدُنا امام اَعمش رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے کچھ علمی سوالات کئے ، جس پر سَیِّدُنا امامِ اَعْظَم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے ایسے علمی اور فقہی جوابات اِرشَاد فرمائے کہ استاذِ مُحْتَرَم حیران و ششدررہ گئے ، حضرتِ سَیِّدُنا اِمام اَعمش رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے اس لائق اور ہونہار شاگرد سے پوچھا : آپ نے یہ جوابات کہاں سے سیکھے اور سمجھے ؟سَیِّدُنا اِمامِ اَعْظَم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: آپ نے جو ہمیں فلاں فلاں روایات بیان کی تھیں ، بس انہیں کی بُنْیَاد پر میں نے یہ جوابات بیان کئے ہیں۔ حضرتِ سَیِّدُنا اِمام اَعمش رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ آپ کی خداداد قوّتِ حافظہ اور بے مِثال فَقَاھَت( فقہی مَہَارَت) دیکھ کر بے ساختہ پُکار اٹھے : آپ تو طبیب ہیں اور ہم آپ کی تجویز کردہ دواؤں کو فَرَوخْت  کرنے والے ( یعنی آپ قرآن و حدیث کے دلائل سے مسائلِ شرعیہ نکالنے والے ہیں اور ہم لوگوں کوبیان کرنے والے ۔ ) (1)
اعلیٰ حضرت اور علمی مذاکرہ
اعلیٰ حضرت ،  امامِ اہلسنّت ، مُجَدّدِ دىن و ملّت ،  پَروانۂ شَمْعِ رِسالَت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے بھی علمی مذاکروں کے بے شُمار واقعات ثابت ہیں۔ آپ کے ملفوظات شریف میں اس قسم کی مثالیں جگہ جگہ دیکھی جا سکتی ہیں۔ چُنَانْچِہ ، 
دَعْوَتِ اِسْلَامی کے اِشَاعتی اِدارے مَکْتَبَةُ الْـمَدِیْنَه کے مَطْبُوعَہ رسالے اعلیٰ حضرت



________________________________
1 -       حافظہ کیسے مضبوط ہو ، ص ۳۰ بحوالہ الثقات لابن حبان ، باب العین ، علی بن معبد...الخ ، ۵ / ۳۳۴