اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ بھی عشا کے بعد دیر گئے تک علمی مَـحْفِل سجایا کرتے تھے ۔ (1)بلکہ ایک رِوایَت میں تو یہاں تک ہے کہ اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بھی بسا اَوقات یہی مَعْمُول رہتا تھا۔ (2)
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! یہ وہ مثالیں ہیں ، جن میں ہمارے اَسلاف رات رات بھر یا رات کا ایک طویل حصہ جاگ کر علمی مذاکرے فرمایا کرتے تھے ، مگر ایسی روایات کی بھی کمی نہیں جن میں دن کے اَوقات میں مذاکروں کا تَذْکِرہ ملتا ہے ۔ بَرَکَت کے لئے ذیل میں دو۲ واقعات پیشِ خِدْمَت ہیں:
امام اعظم کا علمی مذاکرہ
حضرتِ سَیِّدُنا امامِ اَعْظَم ابو حنیفہ نُعمان بن ثابِت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سے حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بن مالک اور حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن ابی اَوفیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اور کم و بیش16 تابعین( یعنی جنہوں نے صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی صُحْبَت پائی ، ان) سے احادیثِ کریمہ رِوایَت کی ہیں۔ ہر مسئلے کے حل کے لئے آپ کی ذات مَرجَعِ خَلائق تھی( یعنی کثیر لوگ مسائل کے حل کیلئے آپ کی خِدْمَت میں حاضِر ہوتے ) ۔ اسی خُصُوصِیَّت کی وجہ سے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو بے مثال سمجھا جاتا تھا۔ اپنے وَقْت کے عظیم محدِّث حضرتِ سَیِّدُنا اِمام اَعمش سلیمان بن مہران رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا شُمار اِمامِ اَعْظَم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی
________________________________
1 - مصنف ابن ابی شیبه ، کتاب صلاة التطوع والامامة ، من رخص فی ذلك...الخ ، ۲ / ۱۸۲ ، حدیث: ۱۰
2 - المرجع السابق ، ۲ / ۱۸۲ ، حدیث: ۱۲