کا حضرت سَیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اس طرح اِجازَت دینا اور پھر خود بھی ساری رات جاگ کر ان کے ساتھ دینی مسائل کے بارے میں باتیں کرنااپنے اِجْتِـھَادسے نہ تھا ، بلکہ انہیں یہ تَرْبِیَت اللہ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ملی تھی۔ چُنَانْچِہ وہ خود فرماتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسلمانوں کے اُمُور کے مُتَعَلِّق تبادلۂ خیال کرنے کیلئے بسا اَوقات اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدُنا ابو بکر صِدِّیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاں رات کے وَقْت تشریف لے جاتے اور ایک بار تو میں بھی ساتھ تھا جب پوری رات اسی طرح باتیں کرتے ہوئے گزر گئی تھی۔ (1)
اسلاف کے چند مزید مذاکروں کا تذکرہ
٭حضرتِ سَیِّدُنا ابو لیلیٰ انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے ساتھ رات بھر عِلْمی مذاکرے میں مَصْرُوف رہتے ۔ (2)
٭اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے بڑے شہزادے حضرتِ سَیِّدُنا اِمام حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بھی رات علمی مذاکرے میں گزارنا ثابِت ہے ۔ (3)
٭حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عبّاس رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بعض اَوقات حضرتِ سَیِّدُنا مِسْوَر
________________________________
1 - مسند احمد ، مسند العشرة...الخ ، ۲-مسند عمر بن الخطاب ، ۱ / ۱۱۱ ، حدیث: ۱۷۷ ملتقطًا
2 - مصنف ابن ابی شیبه ، کتاب صلاة التطوع والامامة ، من رخص فی ذلك...الخ ، ۲ / ۱۸۱ ، حدیث: ۲
3 - المرجع السابق ، ۲ / ۱۸۲ ، حدیث: ۴