Brailvi Books

ہفتہ وار مدنی مذاکرہ
25 - 70
 صَالِـحِین رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِم سے تو یہاں تک ثابِت ہے کہ وہ بسا اَوقات رات رات بھر جاگ کر علمی مذاکرے فرمایا کرتے تھے ۔ جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُنا ابن بطّال مالکی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ ( مُتَـوَفّٰی ۴۴۹ھ) صحیح بخاری کی شرح میں فرماتے ہیں: بلاشبہ ہمارے اَسلاف رات بھر جاگ کر علمی مُذاکَرے میں مَصْرُوف رہا کرتے تھے ۔ جیسا کہ ایک رِوایَت میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نَمازِ عشا کے بعد اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرتِ سَیِّدُنا عُمَر فَارُوقِ اَعْظَم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خِدْمَت میں حاضِر ہوئے تو انہوں نے پوچھا: مَا جَآءَ بِكَ؟ کیسے آنا ہوا؟عَرْض کی: کچھ ضروری کام تھا۔ اِرشَاد فرمایا: اس وَقْت؟عَرْض کی: حُضُور ! یہ کام شرعی مسائل سیکھنے سکھانے سے تَعَلّق رکھتا ہے ۔ اِرشَاد فرمایا: ایسا ہے تو آ جائیے !  اس کے بعد دونوں حضرات کافی رات گئے تک عِلْمی مذاکرے میں مَصْرُوف رہے ، پھر جب ( تقریباً سحری کے وَقْت) حضرت سَیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جانے کی اِجازَت طَلَب کی تو اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدُنا عُمَر فَارُوقِ اَعْظَم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: بیٹھ جائیے !  کہاں جا رہے ہیں؟ عَرْض کی: ( نَمازِ فَجْر کا وَقْت ہونے والا ہے ،  اس سے پہلے پہلے ) میں چاہتا ہوں کہ کچھ نوافل ادا کر لوں۔ اِرشَاد فرمایا: ہم نَماز ہی میں ہیں ( کہ گھڑی بھر دینی مسائل کی باتیں کرنا رات بھر کی عِبَادَت سے بہتر ہے ) ۔ چُنَانْچِہ وہ پھر بیٹھ گئے اور دونوں حضرات دوبارہ شَرْعِی مَسَائِل کے بارے میں باتیں کرنے لگے یہاں تک کہ فَجْر کا وَقْت ہو گیا۔ (1) 
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدُنا عُمَر فَارُوق اَعْظَم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ



________________________________
1 -       شرح صحیح بخاری لابن بطال ،  کتاب العلم ،  باب السمر فی العلم ،  ۱ /  ۱۹۲ مفھومًا