نہ کرے ؟فرمایا: نیکی کا حُکْم کرے ۔ عَرْض کی: اگر یہ بھی نہ کرے ؟ فرمایا: شر سے باز رہے کہ یہی اُس کے لئے صَدَقَہ ہے ۔ (1)
دیگر اَسلاف کرام کا طَرْزِ عَمَل
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! سوال و جواب کے ذریعے عِلْمِ دِین سیکھنے سکھانے کا یہ سلسلہ فَقَط دورِ نبوی تک ہی مَحْدُود نہ رہا بلکہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے بھی اسے جاری رکھا اور آج تک یہ سلسلہ قائم ہے اور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ رہتی دنیا تک جاری رہے گا۔ ذیل میں اَسلاف کے چند علمی مذاکروں کا حال پیشِ خِدْمَت ہے :
پوری رات مذاکرے میں گزار دی
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! عشا کے بعد اگرچہ دُنْیَاوِی باتیں کرنا مَنْع ہے ، مگر حضرتِ سَیِّدُنا علّامہ بَدْرُ الدِّیْن عینیرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ عشا کے بعد ایسی باتیں کرنا مَنْع ہے ، جن میں خیر نہ ہو اور وہ باتیں جو خیر و بھلائی کی ہوں وہ رات بھر جاگ کر کرتے رہنے میں بھی کوئی حَرَج نہیں۔ ( (جبکہ ان خیر کی باتوں سے کونسی باتیں مُراد ہیں ، انکے مُتَعَلِّق دَلِـیْلُ الْفَالِـحِیْن میں ہے کہ عشا کے بعد خیر کی باتیں کرنا مَکْرُوہ نہیں بلکہ مُسْتَحَب ہے اور ان خیر کی باتوں میں علمی مذاکرے ، سَلَف صَالِـحِین ( یعنی بُزُرْگانِ دِیْن) کی حِکایات بیان کرنا اور اَخلاق کو عُمْدَہ کرنے والی باتیں کرنا وغیرہ سب شامِل ہے ۔ (2) چُنَانْچِہ یہی وجہ ہے کہ سَلَف
________________________________
1 - بخاری ، کتاب الادب ، باب کل معروف صدقة ، ص۱۵۰۱ ، حدیث: ۶۰۲۲
2 - عمدة القاری ، کتاب العلم ، باب السمر فی العلم ، ۲ / ۲۴۷
3 - دلیل الفالحین ، کتاب الامور المنهی عنه ، باب کراهة الحديث بعد العشاء الآخرة ، ۴ / ۵۷۲