Brailvi Books

ہفتہ وار مدنی مذاکرہ
22 - 70
ترجمہ : جس نے آخِرَت کے لئے علم حاصِل کیا ، اس نے فضل یعنی ہِدَایَت کو پالیا۔ 
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب ! 	     صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تصریح و توضیح کے لئے سوالات کرنا
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ تاجدارِ رِسالت ،  شہنشاہِ نبوّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں خُطْبَہ دیااور فرمایا: اے لوگو ! اللہ پاک نے تم پر حج فَرْض کیا ہے لہٰذا حج کرو ! ایک شخص نے عَرْض کی: یَارَسُولَاللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا ہر سال؟ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خاموش رہے حتّٰی کہ انہوں نے تین۳ بار سوال کیا۔ تو اِرشَاد فرمایا کہ اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال واجِب ہوجاتا اور تم نہ کرپاتے ۔ پھر فرمایا: جب تک میں کسی بات کو بیان نہ کروں تم مجھ سے سوال نہ کرو ،  اگلے لوگ کَثْرَتِ سوال اور پھر اَنۢبِیَا کی مُخالَفَت سے ہلاک ہوئے ،  لہٰذا جب میں کسی بات کا حُکْم دُوں تو جہاں تک ہو سکے اُسے کرو اور جب میں کسی بات سے مَنْع کروں تو اُسے چھوڑ دو۔ (1)
شارِح مشکوٰۃ ،  حضرتِ علّامہ مولانا مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اس حَدیْثِ پاک کی شرح کچھ یوں تحریر فرماتے ہیں: ( سوال) عَرْض کرنے والے ( صحابی) حضرتِ اَقْرَع بِن حابِس تھے ، وہ سمجھے یہ کہ ہر رمضان میں روزے فَرْض ہوتے ہیں تو چاہئے کہ ( ہر) بقر عید میں حج فَرْض ہو پھر یہ سوچا کہ اس میں لوگوں کو بَہُت دشواری ہو گی کیونکہ روزے تو اپنے گھر میں ہی رکھ لئے جاتے ہیں مگر حج کے لئے مکہ معظمہ جانا پڑتا ہے اور اَطرافِ عالَم 



________________________________
1 -       مسلم ،  کتاب الحج ،  باب فرض الحج مرة فی العمر ،  ص۴۹۹ ،  حدیث: ۱۳۳۷