Brailvi Books

ہفتہ وار مدنی مذاکرہ
21 - 70
بنا کر بھیجا ہے ،  ہم بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اِیمان لائی ہیں اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پَیْرَوِی کرتی ہیں مگر صُورَتِ حال یہ ہے کہ ہم پردہ نشین بناکر گھروں میں بٹھا دی گئی ہیں اور اپنے شوہروں کی خواہشات پوری کرتیں ، ان کے بچوں کو گود میں لئے پھرتی ہیں اور جب وہ جہاد پر جاتے ہیں تو انکے مالوں ا ور بچوں کی حِفَاظَت و پرورش کرتی ہیں ، ادھر مرد حضرات نَمازِ جُمُعَہ ،  جَنازوں اور جہادوں میں شِرْکَت کرکے اَجَر و ثواب میں ہم سے فضیلت لے جاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان مَردوں کے ثواب میں سے کچھ حِصّہ ہم عورتوں کو بھی ملے گا یا نہیں؟ یہ سُن کر حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی طرف مُتَوجّہ ہوئے اور اِرشَاد فرمایا: کیا تم نے ا س عورت کی گفتگو کوسُنا؟اس نے اپنے دِین کے بارے میں کتنا اَچھّا سوال کیا ہے !  پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: اے اَسما !  جا کر عورتوں سے کہہ دو اگر وہ اپنے شوہروں کی خِدْمَت گزاری کر کے ان کو خوش رکھیں اور ہمیشہ اپنے شوہروں کی خوشنودی طَلَب کرتی رہیں اور ان کی فرمانبرداری کرتی رہیں تو مَردوں کے اَعمال کے برابرہی عورتوں کو بھی ثواب ملے گا۔ یہ سُن کر حضرتِ اَسما بِنْت یزید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا مارے خوشی کے تکبیر و تہلیل (1)کہتی ہوئی باہَر نکلیں۔ (2)
عِلْم حاصِل کرنے کے مُتَعَلِّق امام اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے مَنْقُول ہے : 
مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِلْمَعَادِ       فَازَ  بِفَضْلٍ  مِّنَ  الرَّشَادِ(3)



________________________________
1 -      تکبیر و تہلیل سے اللہ اکبر اور لا الہ الااللہ کہنا مراد ہے۔ 
2 -     الاستیعاب ، کتاب النساء و کناھن ، باب الالف ، ۳۲۶۷-اسماء بنت یزید ، ۴ / ۳۵۰ مفهومًا
3 -     تعلیم المتعلم  طریق التعلم ، فصل فی النیة فی حال التعلم ، ص۱۵