Brailvi Books

ہفتہ وار مدنی مذاکرہ
20 - 70
سے پوچھئے کہ اگر میں آپ پر صَدَقہ کروں تو کیا میری طرف سے ادا ہو جائے گا اگر نہیں تو کسی اور پر خَرْچ کر دُوں۔ تو سَیِّدُنا عبداللہ بن مَسْعُود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے فرمایا: تم خودہی چلی جاؤ۔ لِہٰذا میں بارگاہِ نبوی میں حاضِر ہوئی تو دیکھا کہ انصار کی ایک عورت بھی یہی سوال کرنے کے لئے دَرِ دولت پر حاضِر ہے ۔ ہم حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مَرْعُوب رہتی تھیں ،  چُنَانْچِہ جب حضرتِ سَیِّدُنا بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہماری طرف آئے تو ہم نے ان سے کہا: خِدْمَتِ اَقْدَس میں جا کر عَرْض کیجئے کہ دو۲ عورتیں دروازے پر اس سوال کیلئے کھڑی ہیں کہ اگر وہ اپنے شوہر اور زیرِ کفالت یتیموں پر صَدَقہ کریں تو کیا ان کی طرف سے ادا ہو جائے گا؟ اور اے بلال !  یہ نہ بتائیے گا کہ ہم کون ہیں۔ چُنَانْچِہ آپ نے بارگاہِ رِسَالَت میں حاضِر ہوکر یہ سوال کیا تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِسْتِفْسَار فرمایا: وہ عورتیں کون ہیں؟ عَرْض کی: انصار کی ایک عورت اور زینب ہے ۔ دَرْیَافْت فرمایا: کونسی زینب؟عَرْض کی: عبداللہ بن مَسْعُود کی زوجہ۔ اِرشَادفرمایا: ان دونوں کے لئے دُگنا اَجَر ہے ،  ایک رشتہ داری کا اوردوسرا صَدَقے کا۔ (1)
نمائندہ بن کر بارگاہِ رسالت میں
ایک مرتبہ حضرتِ سَیِّدَتُنا اَسما بِنْت یزید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا بَہُت سی عورتوں کی نمائندہ بن کر بارگاہِ رِسَالَت میں حاضِر ہوئیں اور عَرْض کی: یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  اللہ تعالیٰ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مَردوں اور عورتوں دونوں کی طرف رسول 



________________________________
1 -       مسلم ، کتاب الزکاة ، باب فضل النفقة والصدقة علی...الخ ،  ص۳۶۰ ،  حدیث: ۴۵ ( ۱۰۰۰)