Brailvi Books

ہفتہ وار مدنی مذاکرہ
19 - 70
 میں حاضِر ہونے والے کو چاہیے کہ اسے ) سلام کرنے میں پہل کرے ،  اس کے سامنے گفتگو کم کرے ۔ جب وہ کھڑا ہو تو اس کی تعظیم کے لئے کھڑا ہو جائے ،  اس کے سامنے یوں نہ کہے : فُلاں نے تو آپ کے خِلاف کہاہے ۔ اس کی مَوجُودَگی میں اس کے ہم نشین سے سوال نہ کرے ، اس سے گفتگو کرتے وَقْت ہنسے نہ اس کی رائے کے خِلاف مشورہ دے ۔ جب وہ کھڑا ہو تو اس کے دامَن کو نہ پکڑے ،  راستے میں چلتے ہوئے اس سے مسائل نہ سمجھے ، جب تک کہ وہ گھر نہ پہنچ جائے ،  عالِم کی اُکْتَاہَٹ کے وَقْت اس کے پاس کم آیا جایا کرے ۔ (1)
اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرتِ سَیِّدُناعلیُّ المُرتَضٰی ، شیرِ خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں: عالِم کے حق میں سے ہے کہ اس سے بَہُت زیادہ سوال کئے جائیں نہ اس سے جواب لینے میں سختی کی جائے اور جب اسے سُستی لاحِق ہو تو جواب لینے کیلئے اس کے پیچھے نہ پڑا جائے ۔ (2)
بالواسطہ سوالات کرنا
فَقِیْہِ اُمّت حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مَسْعُود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجۂ محترمہ حضرتِ سَیِّدَتُنا زینب ثقفیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں کہ سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: اے عورتو !  صَدَقہ کیا کرو اگرچہ اپنے زیورات ہی سے کرو۔ تو میں اپنے شوہَر کے پاس گئی اور کہا: آپ ایک تنگدست شخص ہیں اور رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں صَدَقہ کرنے کا حُکْم دیا ہے ، جائیے اورحضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 



________________________________
1 -      مجموعه رسائل امام غزالی ،  الادب فی الدین ، آداب المتعلم مع العالم ،   ص۴۳۱
2 -      کتاب الفقیه و المتفقه ،  باب تعظیم المتفقه الفقیه وھیبته...الخ ،  ۲ / ۱۹۸ ،  رقم: ۸۵۶