عِشْقِ رَسول میں ڈُوبے ہوئے جوابات سَماعَت کر کے حدیثِ پاک کے مُطابِق اَجَر وثواب کے مُسْتَحِق قرار پاتے ہیں۔
علم میں ترقی کا باعث
فَقِیْہِ اُمّت حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مَسْعُود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: عِلْم میں زِیادَتی تلاش سے اور واقفیت سُوال سے ہوتی ہے توجس ( چیز) کا تمہیں عِلْم نہیں اس کے بارے میں جانو اور جو کچھ جانتے ہو ، ا س پر عَمَل کرو۔ )(حضرتِ سَیِّدُنا اِمام اَصْمَعِی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کسی نے عَرْض کی: آپ نے اتنا عِلْم کس طرح حاصِل کیا؟فرمایا: سوالات کی کَثْرَت اور اَہَم باتوں کو اَچّھی طرح یاد رکھنے کی وجہ سے ۔ (1)
پوچھنے سے نہ شرمائیے !
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! مَعْلُوم ہوا عِلْم سیکھنے کے لئے سوال پوچھنے سے شرمانا نہیں چاہئے کہ لوگ کیا سوچیں گے کہ اس کو یہ بات بھی مَعْلُوم نہیں یا اس کی اتنی عمر ہوگئی ابھی تک اس کو یہ مسئلہ نہیں پتا ! حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے : میں بہت کچھ جانتا ہوں ، لیکن جن باتوں کے مُتَعَلِّق سوال کرنے سے میں ( بچپن یا جوانی میں) شرمایا تھا ان سے اس بڑھاپے میں بھی بے خَبَر ہوں۔ (2)
________________________________
1 - جامع بیان العلم وفضله ، باب الحمد السوال...الخ ، ص ۳۷۴ ، رقم: ۵۲۳
2 - المرجع السابق ، ص ۳۸۲ ، رقم: ۵۴۵
3 - المرجع السابق ، ص ۳۸۲ ، رقم: ۵۴۶