Brailvi Books

ہفتہ وار مدنی مذاکرہ
13 - 70
 پر مُشْتَمِل کِتاب بہارِ شریعت جلد 3 ،  حِصّہ 16صَفْحَہ 629پرہے : گھڑی بھر عِلْمِ دین کے مَسَائِل میں مُذاکَرَہ اور گفتگو کرنا ساری رات عِبَادَت کرنے سے اَفْضَل ہے ۔ (1)
مدنی مذاکرے میں سوال پوچھنے کی اہمیت
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو !  جیساکہ بیان ہوا کہ مدنی مذاکرے میں مُـخْتَلِف موضوعات پر سوال و جواب کا سلسلہ ہوتا ہے ۔ لِہٰذا یاد رکھئے کہ عِلْمِ دین کے حُصُول میں سوال کی بڑی اَہَمِیَّت ہے ،  اس کے ذریعے جَہَالَت سے نجات ملتی ہے ۔ چُنَانْچِہ فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : شِفَاءُ الْـعِیِّ السُّؤَالُیعنی بے علمی کا عِلاج سوال ہے ۔ (2)
علم کی کنجی
اسی طرح سوال کو عِلْم کی کنجی ( Key) بھی قرار دیا گیا ہے ۔ جیسا کہ اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مَروی ہے : عِلْم خزانہ ہے اور سُوال اس کی کنجی ہے ،  اللہ پاک تم پر رحم فرمائے سُوال کیا کرو کیونکہ اس ( یعنی سوال کرنے کی صُورَت) میں چار۴ اَفراد کو ثواب دیا جاتا ہے ۔ سُوال کرنے والے کو ، جواب دینے والے کو ،  سننے والے اوران سے مَحبَّت کرنے والے کو۔ (3)
میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو ! کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو مَدَنی مذاکروں میں شریک ہو کر سوالات کرتے اور شَیْخِ طَرِیْقَت ، اَمِیْرِ اَھْلِسُنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے حِکْمَت آموز اور



________________________________
1 -      المدخل الی السنن الکبری ،  باب فضل العلم...الخ ، ص۳۰۵ ،  رقم: ۴۵۹
2 -      ابو داود ، کتاب الطھارة ،  باب فی المجروح یتیمم ،  ص ۶۹ ،  حدیث: ۳۳۶
3 -      مسند فردوس ،  باب العین ، ذکر الفصول من ذوات الف واللام ،  ۳ / ۶۸ ،  حدیث: ۴۱۹۲