پڑھو تو مجھ پر بھی پڑھو ،بے شک میں تمام جہانوں کے ربّ کا رسول ہوں ۔()
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
( 23 )...رِیَا کاری
”رِیاکاری“ کی تَعْرِیف
اللہ پاک کی رِضا کے عِلاوہ کسی اور اِرادے سے عِبَادت کرنا رِیَاکَارِی ہے ۔(1)
”رِیاکاری“ کی چند مِثَالَیں
٭ عِلْمِ دین اس لئے حاصِل کرنا کہ اس کے ذریعے دنیا کا مال کمائے یا لوگوں میں اس کی واہ واہ ہو ۔ ٭ نماز اس لئے پڑھنا کہ لوگ اسے نیک نمازی سمجھیں ۔ ٭ حج اس لئے کرنا کہ لوگ اسے حاجی صاحِب کہہ کر پُکاریں ۔ ٭ سخی مشہور ہونے کے لئے صدقہ وخیرات کرنا وغیرہ ۔
”رِیاکاری“ کے مُتَعَلِّق مختلف اَحْکَام
( 1 ): ریاکاری حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے ۔(2) ( 2 ): رِیَا کی وجہ سے عِبَادت کا ثواب نہیں مِلتا بلکہ گُنَاہ ہوتا ہے اور یہ شَخْص ( یعنی رِیَاکاری کرنے والا ) مستحقِ عذاب ہوتا ہے ۔(3) ( 3 ): رِیَا سے عِبَادت ناجائز نہیں ہو جاتی ( یعنی ایسا نہیں کہ رِیَاکاری سے نماز پڑھی تو اسے تَرْکِ نماز سمجھا جائے ) بلکہ نامقبول ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اگر رِیَاکار آخر میں رِیَا سے
________________________________
1 - جمع الجوامع ، ١ / ٣٢٠ ، حديث: ٢٣٥٤.
2 - الزواجر ، الكبيرة الثانية: الشرك الاصغر ، ١ / ٧٦.
3 - الحديقة الندية ، الخلق التاسع ، المبحث الرابع: الرياءالخفى وعلاماته ، ٢ / ٣٧٣..
4 - بہارِ شریعت ، حصہ۱۶ ، رِیا و سمعہ کا بیان ، ۳ / ۶۲۹.