Brailvi Books

گُنَاھوں کے عَذَابات( حصہ اول )
68 - 86
کو آتے دیکھ کر کہا: دیکھو! ہاتھی کا چھوٹا بھائی آ رہا ہے ، یہ بھی تَمَسْخُـر ہے ۔ 
” تَمَسْخُر“ کے مُتَعَلِّق مختلف اَحْکَام 
( 1 ): ( کسی مسلمان کے ساتھ ) تَمَسْخُـر کرنا ( یعنی اُس کا مذاق اُڑانا ) حرام ہے کیونکہ اِس سے ( اُس کی ) دل آزاری ہوتی ہے ۔() ( 2 ): دِین کی کسی چیز کا مذاق اُڑانا کُفر ہے ۔() ( 3 ): مِزَاح  یعنی ایسی بات جس میں کسی کی دل آزاری نہ ہو بلکہ اپنا اور سننے والے کا دِل خوش ہو جائے یہ اچھی چیز ہے جبکہ کبھی کبھی ہو ( اور اس میں جھوٹ بھی نہ ہو ) ۔ کبھی کبھی خوش طبعی کرنا حُضُورِ اَقْدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ثابِت ہے ۔() 
آیتِ مُبَارَکہ 
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ	
( پ٢٦، الحجرات: ١١ )
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو نہ مرد مَردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے دُور نہیں کہ وہ اِن ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں ۔
فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 
قیامت کے دِن لوگوں کا مذاق اُڑانے والے کے سامنے جنّت کا ایک دروازہ کھولا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آؤ! آؤ...!! وہ بہت بے چینی اور غم میں ڈوبا ہوا اس دروازے کے سامنے آئے گا مگر جیسے ہی دروازے کے پاس پہنچے گا تو دروازہ بند کر دیا جائے گا، پھر



________________________________
1 -    عين العلم وزين الحلم ،  الباب التاسع فى الصمت و آفات اللسان ،  كراهية الاستهزاء    الخ ، ١ / ٤٦٧.
2 -    صراط الجنان ،  پ۶ ،  المائدہ ،  تحت الآیہ: ۵۸ ،  ۲ / ۴۵۷.
3 -    مراٰۃ المناجیح ،  خوش طبعی کا بیان ،  پہلی فصل ،  ۶ / ۴۹۳ ،  ماخوذًا.