تَجَسُّس کے گُنَاہ میں مبتلا ہونے کے بَعْض اَسْبَاب
( 1 ): بُغْض وکینہ ( 2 ): حَسَد ( 3 ): چُغْل خوری کی عادت ( ایسا شَخْص ایک دوسرے تک باتیں پہنچانے کے لئے لوگوں کے عیب تلاش کرنے میں لگا رہتا ہے ) ۔
تَجَسُّس سے بچنے کے لئے
٭ اپنے عیبوں پر نظر رکھئے اور انہیں دُور کرنے میں لگ جائیے ۔ ٭ بے جا سوچنا چھوڑ دیجئے ۔ ٭ اللہ پاک کی رِضا کے لئے آپَس میں مَحَبَّت کیجئے اور دل سے مسلمانوں کا بُغْض وکینہ نِکال دیجئے ۔ ٭ خود کو جہنّم کے عذاب سے ڈرائیے ۔ رِوَایت میں ہے کہ جس کو سب سے کم درجہ کا عذاب ہو گا اسے آگ کی جُوتِیاں پہنا دی جائیں گی جس سے اس کا دِمَاغ ایسا کھولے گا جیسے تانبے کی پتیلی کھولتی ہے ، وہ سمجھے گا کہ سب سے زِیادہ عذاب اس پر ہو رہا ہے حالانکہ اس پر سب سے ہلکا ہے ۔(1)
مَدَنی مشورہ: تَجَسُّس کے متعلق مزید مَعْلُومات کے لئے شیخِ طریقت، اَمِیْرِ اہلسنت حضرت علَّامہ ابوبِلال محمد الیاس عطَّار قادِری دَامَتْ بَـرَکَاتُہُمُ الْعَالِـیَہ کی مایہ ناز تصنیف”نیکی کی دعوت“صفحہ 397 تا 402 کا مُطَالعہ کیجئے ۔
حلقوں میں یاد کروائی جانے والی دُعا
تَعْزِیَت کرتے وَقْت کی دُعا
اِنَّ لِلّٰہِ مَاۤ اَخَذَ وَلَہٗ مَاۤ اَعْطٰی وَکُلٌّ
عِنْدَہٗ بِاَجَلٍ مُّسَمًّی فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ
________________________________
1 - مسلم ، كتاب الايمان ، باب اهون اهل النار عذابا ، ص١٠٢ ، حديث: ٣٦٤.