”تَجَسُّس“ کے مُتَعَلِّق مختلف اَحْکَام
( 1 ): مسلمان کی عیب جُوئی ( یعنی اس کے عیب تلاش کرنا ) حرام ہے ۔(1) ( 2 ): بے دِین، مُفْسِدِین ( فساد کرنے والوں ) کے حالات چُھپ کر دیکھنا سننا تا کہ ان کے فساد کی روک تھام ہو سکے ، جائز ہے ۔(2) ( 3 ): نوکر رکھنے شَراکت داری ( یعنی پارٹنر شِپ کرنے ) یا کہیں شادی کا اِرادہ ہے تو حَسْبِ ضرورت مَعْلُومات کرنا گُنَاہ نہیں ۔(3)
آیتِ مُبَارَکہ
وَ لَا تَجَسَّسُوْا ( پ٢٦، الحجرات: ١٢ )
ترجمۂ کنزالایمان: اور عیب نہ ڈھونڈو ۔
یعنی مسلمانوں کی عیب جُوئی نہ کرو اور ان کے چُھپے حال کی جُسْتُجو میں نہ رہو جسے اللہ پاک نے اپنی سَتَّاری سے چُھپایا ۔(4)
فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
اے وہ لوگو جو زبان سے تو ایمان لے آئے ہو مگر تمہارے دِل میں ابھی تک ایمان داخِل نہیں ہوا! مسلمانوں کی غیبت مت کرو اور نہ ان کے عُیُوب کو تلاش کرو کیونکہ جو اپنے مسلمان بھائی کا عیب تلاش کرے گا اللہ پاک اُس کا عیب ظاہِر فرما دے گا اور اللہ پاک جس کا عیب ظاہِر فرما دے تو اُسے رُسوا کر دیتا ہے اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ( چُھپ کر بیٹھا ہوا ) ہو ۔(5)
________________________________
1 - فتاویٰ رضویہ ، ۱۴ / ۲۷۱ ، بتغیر.
2 - مراٰۃ المناجیح ، ابن صیاد کا بیان ، پہلی فصل ، ۷ / ۳۲۶ ، بتغیر قلیل.
3 - نیکی کی دعوت ، ص۳۹۸.
4 - خزائن العرفان ، پ۲۶ ، الحجرات ، تحت الآیہ: ۱۲ ، ص۹۵۰.
5 - ابو داود ، كتاب الادب ، باب فى الغيبة ، ص٧٦٥ ، حديث: ٤٨٨٠.