دُرُود شریف کی فضیلت
فرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: جس نے یہ کہا : ”جَزَ ی اللّٰہُ عَنَّا مُحَمَّدًا مَّاھُوَ اَھْلُہٗ“ (1) 70 فِرِشتے ایک ہزار دن تک اس کے لئے نیکیاں لکھتے رہیں گے ۔(2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
( 21 )...تَجَسُّس ( عیب جُوئی )
”تَجَسُّس“ کی تَعْرِیف
لوگوں کی خُفْیہ ( چھپی ہوئی ) باتیں اور عیب جاننے کی کوشش کرنا تَجَسُّس کہلاتا ہے ۔()
”تَجَسُّس“ کی چند مِثَالَیں
٭ کسی سے یہ پوچھنا: رات دیر تک جاگتے رہتے ہو، فجر بھی پڑھتے ہو یا نہیں ؟ ٭ کسی نے نوکر رکھا تو اُس سے پوچھنا: آپ کا نیا نوکر برابر کام کرتا ہے یا نہیں ؟ یہ بھی بِلا اِجازتِ شَرْعِی پوچھنا عیب ڈھونڈنا ہے اور اس سوال کے جواب میں پورا خطرہ ہے کہ جس سے پوچھا گیا وہ نوکر کے بارے میں کام چور ہے ، حرام خور ہے وغیرہ کہہ کر گنہگار ہو جائے ۔(3) ٭ اسی طرح بِلا اِجازتِ شَرْعِی کسی کا کوئی عیب مَعْلُوم کرنے کے لئے اس کاپیچھا کرنا، اس کے گھر میں جھانکنا وغیرہ بھی تَجَسُّس میں داخِل ہے ۔
________________________________
1 - اللہ پاک ہماری طرف سے حضرت مُحَمَّد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ایسی جزا عطا فرمائے جس کے وہ اہل ہیں ۔
2 - معجم اوسط ، ١ / ٨٢ ، حديث: ٢٣٥.
3 - الحديقة الندية ، الخلق الرابع و العشرون ، ٣ / ١٦٠.
4 - نیکی کی دعوت ، ص۳۹٩ ، بتقدم وتأخر.