Brailvi Books

گُنَاھوں کے عَذَابات( حصہ اول )
64 - 86
دُرُود شریف کی فضیلت
فرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: جس نے یہ کہا : ”جَزَ ی اللّٰہُ عَنَّا مُحَمَّدًا مَّاھُوَ اَھْلُہٗ“ (1) 70 فِرِشتے ایک ہزار دن تک اس کے لئے نیکیاں لکھتے رہیں گے ۔(2) 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!	صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
( 21 )...تَجَسُّس ( عیب جُوئی )
”تَجَسُّس“ کی تَعْرِیف
لوگوں کی خُفْیہ ( چھپی ہوئی ) باتیں اور عیب جاننے کی کوشش کرنا تَجَسُّس کہلاتا ہے ۔() 
”تَجَسُّس“ کی چند مِثَالَیں
٭ کسی سے یہ پوچھنا: رات دیر تک جاگتے رہتے ہو، فجر بھی پڑھتے ہو یا نہیں ؟ ٭ کسی نے نوکر رکھا تو اُس سے پوچھنا: آپ کا نیا نوکر برابر کام کرتا ہے یا نہیں ؟ یہ بھی بِلا اِجازتِ شَرْعِی پوچھنا عیب ڈھونڈنا ہے اور اس سوال کے جواب میں پورا خطرہ ہے کہ جس سے پوچھا گیا وہ نوکر کے بارے میں کام چور ہے ، حرام خور ہے وغیرہ کہہ کر گنہگار ہو جائے ۔(3) ٭ اسی طرح بِلا اِجازتِ شَرْعِی کسی کا کوئی عیب مَعْلُوم کرنے کے لئے اس کاپیچھا کرنا، اس کے گھر میں جھانکنا وغیرہ بھی تَجَسُّس میں داخِل ہے ۔ 



________________________________
1 -    اللہ پاک ہماری طرف سے حضرت مُحَمَّد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ایسی جزا عطا فرمائے جس کے وہ اہل ہیں ۔ 
2 -    معجم اوسط ،  ١ / ٨٢ ،  حديث: ٢٣٥.
3 -    الحديقة الندية ،  الخلق الرابع و العشرون ،  ٣ / ١٦٠.
4 -    نیکی کی دعوت ،  ص۳۹٩ ،  بتقدم وتأخر.