یوں ڈرائیے کہ اگر میں غصّے میں آ کر بُہتان باندھوں گا تو گنہگار اور جہنّم کا حق دار قرار پاؤں گا کہ یہ گُنَاہ کے ذریعے غصّہ ٹھنڈا کرنا ہوا اَور فرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : جہنّم میں ایک دروازہ ہے اس سے وُہی داخِل ہوں گے جن کا غصّہ کسی گُنَاہ کے بعد ہی ٹھنڈا ہوتا ہے ۔(1) ٭ مسلمانوں کے بارے میں حُسنِ ظَن رکھئے ، بدگمانی اور شک کرنے سے پرہیز کیجئے ۔
حلقوں میں یاد کروائی جانے والی دُعا
بازار میں داخِل ہوتے وَقْت کی دُعا
لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْـکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَیٌّ لَّا یَمُوْتُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
ترجمہ: اللہ کے سِوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے ہے بادشاہی اور اسی کے لئے حمد ہے ، وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے ، وہ زندہ ہے اس کو ہرگز موت نہیں آئے گی، تمام بھلائیاں اسی کے دستِ قدرت میں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادِر ہے ۔
اللہ پاک اس ( دُعا کے پڑھنے والے ) کے لئے دس لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور اس کے دس لاکھ گُنَاہ مِٹاتا ہے اور اس کے دس لاکھ درجے بلند کرتا ہے اور اس کے لئے جنَّت میں گھر بناتا ہے ۔()
٭ …٭ …٭ …٭ …٭ …٭
________________________________
1 - مسند الفردوس ، ١ / ٢٠٥ ، حديث: ٧٨٤.
2 - مشكوة ، كتاب الدعوات ، باب الدعوات فى الاوقات ، ١ / ٤٥٤ ، حديث: ٢٤٣١ ومدنی پنج سورہ ، ص۲۱۲.